Jadid Khabar

پنجاب کے کسانوں کو آٹھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مرکزی حکومت نے دی: شیوراج سنگھ

Thumb

نئی دہلی، 28 اگست (یو این آئی)  زراعت و  کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیرِ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے پنجاب کو متعدد اسکیموں اور سبسڈی کی شکل میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 20 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا مرکزی تعاون فراہم کیا ہے۔

مسٹر چوہان نے امرتسر کے بابا بکالا صاحب میں منعقدہ 'رکھڑ پنیا' میلے میں پنجاب کے کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے مرکزی حکومت کی بڑی اسکیموں کی تفصیلات دیتے ہوئے یہ معلومات فراہم کیں ۔ مسٹر چوہان نے کہا کہ مودی حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ  کے لیے پرعزم ہے اور پنجاب کو ترقی، سکیورٹی اور شفافیت چاہیے۔

یہ معلومات یہاں جاری ایک سرکاری پریس ریلیز میں دی گئی ہے۔ مسٹر چوہان نے کہا کہ پنجاب کے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریداری سے 6 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے کسانوں کو ملے۔ کھاد سبسڈی کی شکل میں 1.5 لاکھ کروڑ روپے کا فائدہ دیا گیا۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے تقریباً 7,000 کروڑ روپے کسانوں کو ملے۔ پی ایم آواس یوجنا میں 584 کروڑ روپے دیے گئے۔ پی ایم جن دھن میں بھی کروڑوں روپے کا مالی شمولیت کا کام کیا گیا۔ وکست بھارت- جی رام جی اسکیم میں اس سال 1,341 کروڑ روپے پنجاب کو دیے گئے ہیں۔

مسٹر چوہان نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کی قیادت میں کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کے فیصلے کسانوں کے مفادات کے خلاف نہیں ہوں گے۔ ایسے جو بھی معاہدے ہوئے ہیں، وہ کسانوں کے فائدے میں رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ ابھی تک نافذ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج پنجاب کی اس مقدس زمین سے، کسان بھائیو، آپ کو یہ پیغام دینے آیا ہوں کہ وزیرِ اعظم مودی ہمیشہ کہتے ہیں، ملک سب سے پہلے ہے اور دنیا کے کسی ملک سے ایسا معاہدہ نہیں ہو سکتا، جو کسان کے مفادات کے خلاف ہو۔

انہوں نے پنجاب حکومت کی اس بات کے لیے شدید مذمت کی کہ یہاں ریاستی سطح پر پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کو نافذ نہیں کیا گیا اور کہا کہ اگر فصل بیمہ وقت پر نافذ ہوتا تو کسانوں کو بھاری راحت ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی 23 ریاستوں میں فصل بیمہ یوجنا نافذ ہے، لیکن پنجاب حکومت نے فصل بیمہ یوجنا نافذ نہیں کی۔

مرکزی وزیر مسٹر چوہان نے اسٹیج سے مان حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مقامی پالیسیاں کسانوں اور غریب خاندانوں تک مرکز کی اسکیموں کا فائدہ پہنچنے میں رکاوٹ بنی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی معاملات میں ریاستی حکومت نے مرکز کے فنڈز یا اسکیموں کے موثر نفاذ میں تاخیر یا بے ضابطگی دکھائی ہے اور عوام کو جواب دہی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پورے ملک میں کھاد کی تقسیم کا ایسا نظام بنایا ہے کہ یہ کھاد سستی صرف کسانوں کو ملے، یہ کہیں اور نہ جانے پائے، لیکن پنجاب کی حکومت نے انکار کر دیا اور یہاں یوریا کسانوں کے ساتھ غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ یوریا دوسرے لوگوں کو جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "وکست بھارت- جی رام جی اسکیم گاؤں کی ترقی کے لیے، ایک مکمل اسکیم بنی ہے۔ اس اسکیم کے تحت، پنجاب کو اس سال، ابھی 1,341 کروڑ روپے دے دیے گئے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ہر گرام پنچایت کو کم از کم دو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے مناسب ترقی کا موقع ملے گا اور خواتین کے لیے 'لکھ پتی دیدی' جیسے مالی شمولیت کے پروگراموں کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ دیہی خواتین کے روزگار کو بااختیار بنایا جا سکے۔

مسٹر چوہان نے پکے مکان کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کچے مکان میں رہتے ہیں، ان کو پکا مکان بنانے کے لیے پیسہ دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی کی حکومت بنے گی، تو سب کے پاس اپنے مکان ہوں گے اور غریب خاندانوں کو پکے مکان بنانے کے لیے پورا تعاون دیا جائے گا۔

اس موقع پر ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ نایب سنگھ سینی، بی جے پی کی پنجاب اکائی کے صدر کیول سنگھ ڈھلوں اور دیگر سینئر عوامی نمائندے موجود تھے۔