ممبئی کے باشندوں کے لیے تہواروں کے موسم کا آغاز ایک انتہائی مہنگے جھٹکے کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔ شہر میں مسلسل بڑھتی مہنگائی کے درمیان اب دودھ کی قیمتوں میں شدید اضافہ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ دودھ پروڈکشن کرنے والوں دودھ کی قیمت فی لیٹر 9 روپے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا اثر ہر عام خاندان کے ماہانہ بجٹ پر پڑنا طے ہے۔ یہ فیصلہ عین ایسے وقت میں نافذ کیا جا رہا ہے، جب لوگ آنے والے تہواروں کی تیاریوں میں پورے جوش و خروش کے ساتھ مصروف ہیں۔ دودھ جیسی بنیادی ضرورت مہنگی ہونے سے باورچی خانے کا پورا خرچ بگڑ جائے گا۔
دی گئی جانکاری کے مطابق شہر کے تھوک اور خوردہ دودھ پروڈکشن کرنے والوں نے قیمتوں میں براہ راست 9 روپے فی لیٹر کا یکمشت اضافہ کرنے کا سخت فیصلہ کیا ہے۔ اب تک شہر میں صارفین کو دودھ 93 روپے فی لیٹر کی قیمت پر آسانی سے دستیاب ہو رہا تھا۔ اب نئی شرحیں نافذ ہونے کے بعد لوگوں کو اسی ایک لیٹر دودھ کے لیے 102 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بڑھی ہوئی قیمت یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوگی۔ یعنی ممبئی میں یکم ستمبر 2026 سے دودھ کی خریداری عام آدمی کی جیب پر بھاری پڑنے والی ہے۔
دودھ پروڈکشن کرنے والی کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی قیمتیں 28 فروری 2027 تک پوری طرح نافذ رہیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے تہواروں کے موسم سے لے کر سردیوں کے اختتام تک ممبئی کے لوگوں کو اسی مہنگی شرح پر دودھ خریدنا پڑے گا۔ دودھ کی قیمتوں میں ہوئے اس بھاری اضافہ کے پیچھے زمینی سطح پر کئی اہم وجوہات موجود ہیں۔ بازار میں دودھ دینے والے مویشیوں کی قیمتوں میں مسلسل بڑا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مویشیوں کو کھلائے جانے والے روزانہ کے چارے کی قیمتیں بھی بہت تیزی سے آسمان چھو رہی ہیں۔ دودھ پروڈکشن کرنے والوں کے اعداد و شمار کے مطابق مویشیوں کی خوراک میں استعمال ہونے والے اناج، تور چُنی، چنا چُنی جیسی مصنوعات کی قیمتوں میں 25 فیصد تک کا بھاری اضافہ درج کیا گیا ہے۔ چارہ مہنگا ہونے کی وجہ سے دودھ کی پیداوار کی مجموعی لاگت کافی زیادہ بڑھ گئی ہے، جس نے دودھ کے کاروبار کے حساب کتاب کو پوری طرح بدل دیا ہے۔
دودھ پروڈکشن لاگت میں مسلسل اضافے کے بعد دودھ پروڈکشن کرنے والوں کے سامنے ایک سنگین معاشی بحران کھڑا ہو گیا تھا۔ دودھ پروڈکشن کرنے والوں کی واضح دلیل ہے کہ پیداواری لاگت اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ بازار میں قائم رہنے کے لیے قیمتیں بڑھانا ان کے لیے ایک بڑی مجبوری بن گئی تھی۔ اسی معاشی دباؤ کی وجہ سے انہیں عام لوگوں پر بوجھ ڈالنے والا یہ بڑا فیصلہ لینا پڑا ہے۔ تاہم دودھ پروڈکشن کرنے والوں کی اس کاروباری مجبوری کا سب سے زیادہ اور براہ راست اثر ممبئی کے لوگوں کی جیب پر پڑنے والا ہے۔