امریکی ریاست الاسکا کے دور دراز فوجی ہوائی اڈے پر گھنے دھند کے دوران لینڈنگ کی دوسری کوشش کی وجہ سے چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا، جس میں سوار سبھی 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ ’نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ‘ نے بتایا کہ پائلٹ رن وے کو دیکھ نہیں پا رہے تھے اور انہیں مکمل طور پر آلات پر انحصار کرنا پڑا، جب وہ اینکریج سے تقریباً 450 میل (725 کلومیٹر) مغرب میں واقع کیپ نیوینہم لانگ رینج ریڈار سائٹ ایئرپورٹ پر اترنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے 2 پائلٹوں اور 6 مسافروں کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی۔ ہلاک شدگان میں ’امریکی آرمی کورپس آف انجینئرز‘ کے 2 ملازمین بھی شامل تھے۔
یہ ریڈار سائٹ 1950 کی دہائی میں سوویت یونین کی جانب سے میزائل حملے کی ابتدائی وارننگ دینے والے نیٹ ورک کے طور پر بنائی گئی تھی۔ آج یہ روس، شمالی کوریا اور چین کی سمت ساحل کے اوپر آسمان پر نظر رکھتی ہے۔ اس سائٹ پر پہاڑ کی ڈھلان پر بنی بجری کی ہوائی پٹی ہے۔ وفاقی ہوابازی انتظامیہ پائلٹوں کو یہاں لینڈنگ کرتے وقت جی پی ایس اور دیگر آلات استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ الاسکن کمانڈ، الاسکن نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ ریجن اور الیونتھ ایئر فورس کے کمانڈر، امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل رابرٹ ڈیوس نے ایک بیان میں کہا کہ ’’طیارے میں سوار افراد مشکل حالات میں اہم مشن انجام دینے والے پیشہ ور افراد تھے۔‘‘ ڈیوس نے کہا کہ ’’یہ ہمارے فوجی خاندان کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے، جن کی ہم خدمت کرتے ہیں۔‘‘
جمعرات کے روز علاقے میں گھنے دھند کی وجہ سے موسم بدل رہا تھا۔ ’نیشنل ویدر سروس‘ کے الاسکا سیکٹر آپریشنز سینٹر کی انچارج ماہر موسمیات کیری ہیسلی کے مطابق ہوائی اڈے سے کچھ فاصلے پر نصب ایک ’آٹومیٹڈ آبزرویشن سسٹم‘ نے حادثے سے چند منٹ پہلے نچلی سطح کے بادلوں، دھند اور تقریباً 10 میل (16 کلومیٹر) حد نگاہ کی اطلاع دی تھی۔ مگر حادثے کے تقریباً 15 منٹ بعد جاری ہونے والی اگلی رپورٹ میں حد نگاہ بہت کم ہو کر ایک چوتھائی میل (0.40 کلومیٹر) سے بھی کم رہ گئی تھی۔ یہ ایئرپورٹ ایک نجی فوجی سائٹ ہے، جسے پیسفک ایئر فورسز ریجنل سپورٹ سینٹر منظم کرتا ہے۔ الاسکا کمانڈ کے بیان کے مطابق یہ دور دراز ریڈار سائٹس کے ایک نیٹ ورک کا حصہ ہے، جو الاسکا کی فضائی حدود اور اس کی سرحدوں پر پرواز کرنے والے طیاروں پر نظر رکھتا ہے۔ کیپ نیوینہم کی چوکی 1983 میں ایک نیا ریڈار نصب کیے جانے کے بعد بند کر دی گئی تھی، اور اب اس سائٹ پر کبھی کبھی ہی سویلین کنٹریکٹرز آتے ہیں، جو سسٹم کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
امریکی آرمی کورپس آف انجینئرز نے کہا کہ ہلاک ہونے والے 2 ملازمین امریکی فضائیہ کے سپورٹ میں ایک پروجیکٹ سائٹ پر جا رہی ’پروجیکٹ ڈلیوری ٹیم‘ کا حصہ تھے۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے تفتیش کار جمعہ کے روز جائے حادثہ کے لیے روانہ ہوئے۔ تفتیش کار یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا پائلٹوں نے ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا، یا حادثے سے پہلے ہی طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا تھا، اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ اس وقت موسم کی صورتحال کیسی تھی۔ یہ بات مائیک او’ڈونل نے کہی، جنہوں نے ایف اے اے میں اپنے 17 سالہ دور ملازمت کے دوران ایئرپورٹ سیفٹی پروگرام اور حادثات کی تحقیقات کی نگرانی کی تھی۔ الاسکا کی امریکی سینیٹر لیزا مرکووسکی نے آن لائن پوسٹ میں کہا کہ یہ پرواز اینکریج میں واقع ہوائی جہاز چارٹر کمپنی ’سیکورٹی ایوی ایشن‘ کے ذریعے آپریٹ کی جا رہی تھی۔ کمپنی نے جمعہ کے روز تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ مرکووسکی نے جمعرات کی رات پوسٹ کیا اور کہا کہ کیپ نیوینہم میں ہوئے طیارہ حادثے کے بارے میں جان کر میں الاسکا کے لوگوں کواظہار تعزیت پیش کرتی ہوں۔ میں نے سیکورٹی ایوی ایشن کے ساتھ پورے الاسکا میں کافی سفر کیا ہے اور ان کے کئی تجربہ کار پائلٹوں سے ملاقات کی ہے۔