کانگریس کی مدھیہ پردیش اکائی کے صدر جیتو پٹواری نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو خط لکھ کر شراب ٹینڈر کے طریقۂ کار کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ 13-2012 سے 27-2026 تک شراب کے کاروبارمیں کچھ چنندہ کمپنیوں کا مسلسل اثر و رسوخ بنا ہوا ہے۔ سامنے آئے دعووں کے مطابق 4 گروپ کے پاس تقریباً 70 فیصد مارکیٹ ہے اور کئی اضلاع میں سالوں سے انہی کمپنیوں کو مسلسل ٹینڈر ملتے رہے ہیں۔ اگر یہ باتیں درست ہیں تو اسے محض اتفاق نہیں مانا جا سکتا۔ اس سے ریاست کے پورے ٹینڈر نظام کی شفافیت اور غیرجانبداری پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ آن لائن ٹینڈر نظام نافذ ہونے کے باوجود اگر ٹینڈر کے نتائج میں پرانے پیٹرن کی تکرار ہو رہی ہے تو حکومت کو ریاستی عوام کے سامنے اس کا واضح جواب دینا چاہیے۔ ’کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا‘ کی کارروائی کے بعد 2022 میں جس مبینہ پیٹرن کے ٹوٹنے کی بات سامنے آئی تھی اس کے بعد اگر پھر وہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے تو اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔
جیتو پٹورای نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ حکومت شراب کے کاروبار سے ہزاروں کروڑ روپے کا ریونیو حاصل کرنے والے کاروباریوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے یا ریاست کے ریونیو اور عوام کے مفادات کا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری کسی کاروباری گروپ کو تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ منصفانہ کمپٹیشن کو یقینی بناتے ہوئے ریاست کے ریونیو اور عوامی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔
مدھیہ پردیش کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے مطالبہ کیا ہے کہ 13-2012 سے اب تک ریاست میں شراب کے تمام بڑے ٹینڈروں کا آزادانہ اور اعلیٰ سطحی آڈٹ کرایا جائے۔ کن کمپنیوں نے کن کن اضلاع میں کتنے سالوں تک ٹینڈر حاصل کیے، اس کی مکمل تفصیلات عام کی جائیں۔ ہر ٹینڈر میں حصہ لینے والی کمپنیوں، ان کی بولی، اہلیت اور حتمی انتخاب کے طریقۂ کار کو پبلک کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی جانچ کرائی جائے کہ کسی کمپنی یا کمپنیوں کے گروپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن کو متاثر تو نہیں کیا۔ ٹینڈر کے طریقۂ کار میں ملی بھگت، کارٹیل یا کسی افسر اور کمپنی کے درمیان گٹھ جوڑ کا شبہ ہونے کی صورت میں آزادانہ جانچ کرائی جائے۔