Jadid Khabar

تہواروں سے قبل چینی کی مٹھاس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کی کڑواہٹ گھل گئی ہے: کھڑگے

Thumb

تہواری سیزن میں چینی کی بڑھتی قیمتوں نے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کاروباریوں کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اس بے تحاشہ مہنگائی پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے چینی کی قیمت کے حوالے سے حکومت سے 3 اہم سوالات پوچھے ہیں۔ کانگریس صدر اپنی پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’تہواروں سے قبل چینی کی مٹھاس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کی کڑواہٹ گھل گئی ہے۔‘‘

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مودی حکومت سے 3 براہ راست سوال کرتے ہیں کہ ’’دنیا کے بڑے چینی پیدا کرنے والے اور برآمد کنندہ ہندوستان میں آج چینی کا اسٹاک 9 سال کی کم ترین سطح پر کیوں ہے؟ نوبت برآمد روکنے اور 10 لاکھ ٹن چینی ڈیوٹی فری درآمد کرنے تک کیسے پہنچ گئی؟ 3 ماہ میں چینی تقریباً 40 فیصد مہنگی ہو گئی ہے، تہواروں سے قبل عوام پر پڑنے والی اس مہنگائی کی مار کا ذمہ دار کون ہے؟ جب ملک میں چینی کی کمی ہے اور حکومت بیرون ملک سے چینی منگوا رہی ہے، تو گنے اور اناج کو ای-20 کے لیے ایتھنول بنانے میں جھونکنے کی پالیسی پر نظر ثانی کیوں نہیں کی جا رہی؟‘‘ کانگریس صدر مزید لکھتے ہیں کہ ’’یہ کیسا ’آتم نربھر بھارت‘ ہے؟ پہلے چینی کی پیداوار کم ہوئی، پھر چینی کا ذخیرہ 9 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، اب بیرون ملک سے چینی درآمد کی جا رہی ہے، اور دوسری طرف گنے کو پٹرول میں ملانے کے لیے ایتھنول میں جھونک رہے ہیں‘
اس سے قبل جمعہ (21 اگست) کو کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت اور ایتھنول بنانے کے لیے گنے کے استعمال پر حکومت کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ انہوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری بیان میں کہا کہ جب گنے اور اناج سے تیار کیا جانے والا ایتھنول پٹرول میں 20 فیصد تک ملایا جائے گا تو اس کا براہ راست اثر ان اشیا کی دستیابی پر پڑے گا جو گنے اور اناج سے تیار ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسری طرف وہ گاڑیاں، جو 20 فیصد ایتھنول کے استعمال کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کے خراب ہونے کا خطرہ بھی رہے گا۔ ان کے مطابق مناسب جانچ کے بغیر ای-20 استعمال کرنے والی گاڑیوں میں مائلیج کم ہونے کا خدشہ ہے۔
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ 25 لاکھ ٹن چینی تیار کرنے لائق گنّا ایتھنول بنانے میں استعمال ہو گیا، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ 3 ماہ کے دوران چینی کی قیمت 48 روپے سے بڑھ کر 67 روپے فی کلو اور گڑ کی قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 65 روپے فی کلو ہو گئی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چاول اور مکئی کا آٹا بھی بالترتیب 16 فیصد اور 11 فیصد مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ جانوروں کی خوراک کی قیمت میں 10.34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔