Jadid Khabar

پی ایم مودی نے 20 خلائی اسٹارٹ اپس کے سربراہان سے ملاقات کی

Thumb

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو قومی راجدھانی دہلی واقع ’سیوا تیرتھ‘ میں ہندوستان کے 20 بڑے خلائی اسٹارٹ اپس کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای او) اور بانیان کے ساتھ بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے ملک کے پرائیویٹ خلائی سیکٹر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیت کی ستائش کرتے ہوئے ہندوستان کو عالمی سطح پر خلائی ٹیکنالوجی کا ایک اہم مرکز بنانے کے لیے مزید تعاون اور جدت پر زور دیا۔

اس اجلاس میں ان اسٹارٹ اپس کے نمائندے شامل ہوئے جو راکٹ سازی، دوبارہ قابل استعمال نیم کرائیوجینک لانچ وہیکل، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، ایویونکس الیکٹرانکس، جدید پروپلشن سسٹم، خلاء اور دفاعی انٹیلی جنس حل، خلائی ملبہ ہٹانے کی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی موسم اور آب و ہوا کی پیش گوئی جیسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ اسٹارٹ اپ کے بانیوں نے وزیر اعظم کو ہندوستان کے پرائیویٹ خلائی سیکٹر میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت کے بارے میں معلومات دیں اور مستقبل کے لیے اپنے منصوبے شیئر کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنیوں نے مقامی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں کی ترقی میں برسوں کی محنت اور سرمایہ کاری کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خلائی شعبے کوپرائیویٹ شراکت داری کے لیے کھولنے اور مختلف پالیسی اصلاحات کے لیے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس موقع پر صنعتی شعبہ کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت کے تعاون اور کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کی وجہ سے ایک مضبوط خلائی ایکو سسٹم تیار ہو رہا ہے۔ ان کی ٹیمیں بڑے اہداف حاصل کرنے کے لیے جوش اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اسٹارٹ اپس کے سربراہان نے یہ بھی یاد کیا کہ جب حکومت نے خلائی شعبہ کو پرائیویٹ شراکت داری کے لیے کھولا تھا، تب اس سے صنعت میں نیا جوش پیدا ہوا اور ہندوستانی کمپنیوں کے لیے متعدد مواقع کھلے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اب کئی صنعتیں اور ادارے پرائیویٹ خلائی کمپنیوں کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے اسٹارٹ اپس کے بانیان کی ہمت، جدت اور پہل کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کی جانب سے دکھائے گئے اعتماد نے خلائی شعبہ کو آزاد کرنے کے فیصلے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کے پاس خلائی پروگراموں میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے کافی وسائل نہیں ہیں یا وہ ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح نہیں دیتے۔ ایسی صورت حال ہندوستان کے لیے ایک بڑا موقع پیش کرتی ہے، جس سے وہ عالمی خلائی صنعت میں اپنی پوزیشن کو تیزی سے مضبوط کر سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے خلائی شعبہ کی کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجیز کے نئے استعمال تلاش کرنے اور ایسے حل تیار کرنے کی ترغیب دی جو عام لوگوں کی زندگی کو آسان بنا سکیں۔ انہوں نے خلائی اسٹارٹ اپس اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نے تجویز پیش کی کہ خلائی ملبے کے انتظام پر کام کرنے والی کمپنیاں ماحولیاتی تحفظ سے وابستہ اداروں کے ساتھ شراکت داری کر سکتی ہیں، تاکہ ان کی ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال ہو سکے۔ اسی طرح زراعت کے شعبے سے وابستہ خلائی ٹیکنالوجی کمپنیاں زرعی یونیورسٹیوں اور سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کسانوں کو بہتر فیصلے کرنے، موسمی معلومات حاصل کرنے اور پیداوار بڑھانے میں مدد کر سکتی ہیں۔