لکھنؤ، 19 اگست (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کہا کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے تحت بی ایس پی کی عوامی بنیاد تمام طبقات میں مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، جبکہ امیدواروں کے انتخاب اور ان کے ناموں کے اعلان کا عمل بھی جاری ہے، جس سے مخالف جماعتوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
محترمہ مایاوتی نے بدھ کے روز 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی ایس پی تمام طبقات میں اپنی عوامی حمایت بڑھانے کے ساتھ امیدواروں کے انتخاب اور اسمبلی سطح کی کارکن کانفرنسوں میں ان کے ناموں کے اعلان کا عمل آگے بڑھا رہی ہے۔ اس بات پر مخالف جماعتوں میں شدید بے چینی ہے اور برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں میں سراسیمگی ہونا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایس پی تمام طبقات بالخصوص برہمن سماج کو بھی سال 2007ء کی طرح مکمل اکثریت کی حکومت بنانے کی تیاری کے تحت پارٹی کا امیدوار بنانے کے عمل میں آگے بڑھ رہی ہے۔ بی ایس پی کی اس حکمت عملی پر مخالف جماعتوں میں بحث اور تشویش واضح ہے۔ انہوں نے 'بہوجن سماج' کے لوگوں کو مخالف جماعتوں کے ہتھکنڈوں سے ہوشیار اور محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اسی سلسلے میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری، سینئر ایڈووکیٹ اور بی ایس پی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش کے ایڈووکیٹ جنرل رہے ستیش چندر مشرا کو پارٹی نے الیکشن کمیشن سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ قانونی اور میڈیا سے جڑی اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن سے متعلق معاملات میں مسٹر مشرا کا اہم کردار رہے گا۔