Jadid Khabar

ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں میں کمی کا حکم دیا

Thumb

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ اعلان اتوار کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا۔ انہوں نے جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی میں شرکت سے انکار کا بھی ذکر کیا۔
مشقیں شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اب مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ کرنا ناممکن ہے، لیکن وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ امریکا پہلے اس میں حصہ لینے پر راضی ہو گیا تھا۔ الچی فریڈم شیلڈ نامی یہ سالانہ فوجی مشق 17 اگست سے 27 اگست تک جاری رہے گی۔جنوبی کوریا کے تقریباً 18000 فوجی حصہ لیں گے۔ حکام کے مطابق ان مشقوں میں شمالی کوریا کی ابھرتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈرونز کو روکنا، جی پی ایس سگنلز میں خلل ڈالنا اور سائبر حملوں کا مقابلہ کرنا شامل ہے۔
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے "بہت اچھے تعلقات" کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ نے امریکہ اسرائیل اور ایران تنازعات پر جنوبی کوریا کے موقف پر بھی توجہ دی۔ انھوں نے لکھا کہ انھوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا کہ کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں میں امریکہ کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، جس پر انھوں نے جواب دیا کہ انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ٹرمپ کی ہدایت پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ پینٹاگون نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جنگ میں روس کے شانہ بشانہ لڑنے والے شمالی کوریا کے فوجیوں نے اس عرصے میں کافی تجربہ حاصل کیا ہے جس میں ڈرون کا استعمال، الیکٹرانک جنگی تکنیک اور سائبر آپریشنز جیسی صلاحیتیں شامل ہیں۔