جے پور، 17 اگست (یو این آئی) راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس رہنما اشوک گہلوت نے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے 'کانگریس رہنما سونیا گاندھی کی طرف سے 'وندے ماترم' کو درمیان میں رکوا کر اس کی توہین کرنے' سے متعلق بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) - راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا وندے ماترم سے کیا تعلق ہے؟ یہ وہی آر ایس ایس اور ان کی نظریاتی سوچ ہے، جس کا وندے ماترم سے کبھی کوئی ناطہ ہی نہیں رہا۔
مسٹر گہلوت نے پیر کے روز اپنے بیان میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ "اتوار کے روز چتوڑ گڑھ میں مسٹر شاہ نے وندے ماترم پر علم بانٹا اور تاریخ پر لیکچر دے رہے تھے، یہ ان کے جرم کا بوجھ ہے اور کچھ نہیں، اسی لیے وہ اب پارلیمنٹ میں وندے ماترم کو لے کر قانون بنا رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ سال 1896 میں کلکتہ کانگریس اجلاس میں پہلی بار 'وندے ماترم' گونجا۔ سال 1905 سے یہ ہر کانگریس اجلاس کی روایت بن گیا۔ کانگریس کے رہنما وندے ماترم کے نعرے لگاتے ہوئے انگریزوں سے براہ راست ٹکر لیتے تھے۔ انگریزوں نے پابندیاں لگائیں، جرمانے عائد کیے، جیل بھیجا، لاٹھیاں برسائیں تب بھی کانگریس کے کارکنان مزید جوش کے ساتھ وندے ماترم گاتے رہے۔ 1937 میں رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے پر اس کا جامع و مشترکہ روپ اپنایا گیا، تاکہ یہ ہر ہندوستانی کا سانجھا گیت بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا کبھی وندے ماترم سے کوئی لینا دینا نہیں رہا۔ سال 1925 میں آر ایس ایس کے قیام سے لے کر 1947 کی آزادی تک انہوں نے کبھی وندے ماترم کو اپنا گیت نہیں بنایا۔ جس گیت کے لیے ہزاروں حب الوطن پھانسی کے پھندے پر جھول گئے، جیل گئے، لاٹھیاں کھائیں، انگریزوں کے خوف سے اسے گانے کی ہمت آر ایس ایس کبھی نہیں جٹا پائی۔ اس کے برعکس 1939 میں جب پورا ملک وندے ماترم گا کر انگریزوں کا مقابلہ کر رہا تھا، آر ایس ایس نے اپنے لیے 'نمستے سدا وتسلے' تیار کر لی تاکہ انگریز حکومت آر ایس ایس سے ناراض نہ ہو جائے۔ جب 1942 میں 'کوئٹ انڈیا موومنٹ' میں ملک کا بچہ بچہ، بوڑھا اور جوان سڑکوں پر انگریزوں کے خلاف اتر پڑا، تو آر ایس ایس اس تحریک سے دور رہ کر انگریزوں کی خوشامدی میں لگی رہی۔
مسٹر گہلوت نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد ملک کی عوام نے دہائیوں تک انہیں اقتدار سے دور رکھا۔ اب اقتدار میں آ کر یہ اپنی تاریخ کے صفحات بدلنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے داغ کو مٹا سکیں۔ پر یاد رکھیے، تقریروں سے تاریخ نہیں بدلتی۔ ملک کے عوام سب جانتے ہیں، ان کے یہ گناہ اس طرح دھلنے والے نہیں ہیں۔