Jadid Khabar

کولمبیا زلزلہ: 24 گھنٹوں میں 30 سے زیادہ آفٹر شاکس، ہلاکتیں 240 کے پار

Thumb

کولمبیا کے مغربی حصہ میں 10 اگست کی صبح آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے 2 دن بعد بھی صورتحال انتہائی تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ زلزلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ہی 30 سے زیادہ آفٹر شاکس درج کیے گئے، جن میں سب سے شدید آفٹر شاکس کی شدت ریکٹر اسکیل پر تقریباً 5.0 ریکارڈ کی گئی۔ اس خوفناک زلزلہ نے کئی جانیں تلف کر لی ہیں۔ علاقائی اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 240 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی ملبوں میں دبے ہو سکتے ہیں۔ مسلسل آفٹر شاکس کے باعث پہلے سے کمزور عمارتوں کے منہدم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ زلزلہ 10 اگست کی صبح تقریباً 7:34 بجے آیا تھا۔ اس کا مرکز چوکو میں سان ہوزے ڈیل پالمر کے قریب تھا اور اس کی گہرائی تقریباً 100 سے 110 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کے باوجود جھٹکے انتہائی شدید تھے اور دور دور تک محسوس کیے گئے۔ کیلی، پیریرا، مانیثالس، آرمینیا اور کوئبدو جیسے شہروں میں عمارتیں لرز اٹھیں اور کئی مقامات پر دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ خوف زدہ لوگ گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔
زلزلے کے جھٹکے تقریباً 2 منٹ تک جاری رہے اور ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں ایک دن بعد بھی عمارتیں منہدم ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کی بنیادیں اور ڈھانچے زلزلے سے کمزور ہو چکے ہیں۔ آفٹر شاکس نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے یعنی یو ایس جی ایس نے زلزلے کے بعد شیک میپ کو اضافی اعداد و شمار کی بنیاد پر اپڈیٹ کیا ہے۔ اس میں عینی شاہدین کی وہ رپورٹس بھی شامل کی گئی ہیں جو ’ڈِڈ یو فیل اِٹ‘ نظام کے ذریعہ موصول ہوئیں۔ جائزوں کے مطابق اس زلزلے کے جھٹکے معمول سے زیادہ شدید تھے۔ یو ایس جی ایس کے اندازے کے مطابق 60 لاکھ سے زیادہ افراد نے 7 سے 8 شدت کے جھٹکے محسوس کیے۔
واضح رہے کہ شدت 7 یا 8 کے زلزلے میں وہ اینٹ اور پتھر کی عمارتیں آسانی سے متاثر یا منہدم ہو سکتی ہیں جنہیں زلزلہ مزاحم معیار کے مطابق مضبوط نہیں بنایا گیا ہو۔ براعظم کے مشرقی حصے میں واقع پیریرا، مانیثالس اور آرمینیا جیسے شہروں میں زلزلے کے سب سے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ یہ شہر زلزلے کے مرکز کے مشرق میں واقع ہیں جہاں جغرافیائی ساخت کی وجہ سے توانائی زیادہ مرکوز ہوئی۔ عام طور پر اتنی گہرائی میں آنے والے زلزلے سطح پر نسبتاً کم نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن اس مرتبہ فالٹ کی نوعیت اور توانائی کے فریکوئنسی پیٹرن کے باعث عمارتوں کو زیادہ نقصان پہنچا۔ کولمبیا کے جیولوجیکل سروے نے بھی اسے 21ویں صدی میں ملک کا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا ہے۔
10 اگست کو آئے زلزلہ کے بعد جو رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، وہ دردناک ہیں۔ کیلی، جو کولمبیا کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے، میں درجنوں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔ اسپتال بھی متاثر ہوئے ہیں اور بعض مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ کافی پیدا کرنے والے خطے کے اہم شہر پیریرا میں بھی سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ امدادی ٹیمیں ہیڈ لیمپ لگا کر رات بھر ملبے کی کھدائی میں مصروف ہیں، جبکہ رضاکار بھی اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ چوکó محکمہ غریب اور دور دراز علاقہ ہے، جہاں سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امدادی سامان اور ٹیموں کی رسائی مشکل ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا، جس کی وجہ سے لاپتا افراد کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں بتائی گئی تھی۔ حکومت نے قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور امداد و بچاؤ کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی مدد کی پیشکشیں موصول ہو رہی ہیں۔ زلزلے نے نہ صرف عمارتوں کو نقصان پہنچایا بلکہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ کئی پرانی عمارتیں زلزلہ مزاحم معیار کے مطابق تعمیر نہیں کی گئی تھیں۔ دیہی علاقوں میں لکڑی اور مٹی سے بنے مکانات آسانی سے منہدم ہو گئے، جبکہ شہروں میں بعض بلند عمارتوں کی بنیادیں بھی کمزور ثابت ہوئیں۔
بہرحال، مسلسل آفٹر شاکس کے باعث لوگوں میں خوف برقرار ہے اور ذہنی صحت پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ زلزلے کے ایک دن بعد بھی عمارتوں کے منہدم ہونے کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث امدادی ٹیموں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے تاکہ مزید لوگ ملبے تلے نہ دبیں۔ پہاڑی علاقوں تک بھاری مشینری پہنچانے میں بھی وقت لگ رہا ہے، جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث طبی مراکز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی اور صاف پانی کا انتظام فوری ضرورت بن چکا ہے۔