Jadid Khabar

امریکہ-کوریا جنگی مشق سے قبل کم جونگ اُن کا میزائل حملہ، جاپان تک بڑھی کشیدگی

Thumb

 
امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑی فوجی مشقوں سے عین قبل شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل داغ کر جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان کے مطابق بدھ کی صبح شمالی کوریا نے ’وونسان‘ کے علاقے سے ’سی آف جاپان‘ کی جانب میزائل لانچ کی، جو 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک گئی۔ یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ’پیونگیانگ‘ کا دوسرا بیلسٹک میزائل تجربہ ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ میزائل مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 6 بجے لانچ کی گئی۔ جنوبی کوریا فوج نے اپنی سیکورٹی اور نگرانی کے انتظامات مضبوط کر لیے ہیں، اور امریکہ اور جاپان کے ساتھ مسلسل اطلاعات شیئر کی جا رہی ہیں۔ جاپان کے وزارت دفاع نے بھی کہا ہے کہ مشتبہ بیلسٹک میزائل سمندر میں گر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جاپان کے خصوصی اقتصادی زون  کے باہر گری ہے۔ یہ لانچ ایسے وقت ہوا ہے، جب امریکہ اور جنوبی کوریا 17 اگست سے ’اولچی فریڈم شیلڈ‘ فوجی مشق شروع کرنے والے ہیں۔ اس لانچ کے بعد سیول نے نگرانی بڑھا دی ہے۔ اسے کم جونگ اُن کی طرف سے آئندہ مشترکہ مشق پر واضح پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ مشق 27 اگست تک جاری رہے گی اور اس میں تقریباً 18 ہزار جنوبی کوریائی فوجی حصہ لیں گے۔ اس بار مشق میں ڈرون، جی پی ایس جیمنگ اور سائبر حملوں جیسے جدید جنگی خطرات سے نمٹنے کی تیاریوں پر بھی زور دیا جائے گا۔ امریکہ اور جنوبی کوریا اسے دفاعی مشق قرار دے رہے ہیں، لیکن شمالی کوریا طویل عرصے سے اسے اپنے خلاف حملے کی تیاری بتاتا رہا ہے۔
شمالی کوریا نے 6 اگست کو بھی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اب تازہ تجربے کے بعد پیونگیانگ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا عام طور پر ایسی فوجی مشقوں کے دوران ہتھیاروں کی نمائش اور سخت بیانات دیتا ہے۔ شمالی کوریا اور جاپان کے درمیان بھی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پیونگیانگ نے جاپان کی نئی دفاعی پالیسی اور فوجی توسیع پر تنقید کی ہے۔ شمالی کوریا کا الزام ہے کہ جاپان اسے خطرہ قرار دے کر اپنے ہتھیاروں کی توسیع کو درست ثابت کر رہا ہے۔ ایسے میں تازہ میزائل تجربے سے جاپان کی تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔