بنگال ایس آئی آر معاملہ: اپیلی ٹربیونلز کے لیے وقت کی حد طے نہیں کر سکتا: سپریم کورٹ
نئی دہلی، 11 اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ وہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اپیلوں پر فیصلہ کرنے کے لیے اپیلی ٹربیونلز کے لیے کوئی مقررہ وقت کی حد طے نہیں کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی جسٹس جوئمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کانگریس رہنما ادھیر رنجن چودھری کی ایک رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے زبانی طور پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس پٹیشن میں ایس آئی آر اپیلی ٹربیونلز کے ذریعے معاملات کو جلد از جلد نمٹانے کی ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ ٹربیونلز کے کام کاج کو متاثر کرنے والی چیزوں اور بنیادی ڈھانچے سے جڑے مسائل کی جانچ کرنے پر متفق ہوئی، لیکن واضح کیا کہ وہ اپیلوں کو نمٹانے کے لیے کوئی وقت کی حد طے نہیں کر سکتی۔ اس معاملے کو اسی طرح کی ایک اور پٹیشن کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے اگلی سماعت 25 اگست کے لیے طے کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایک فیصد سے بھی کم اپیلوں کونمٹایا گیا ہے۔ اس پر جسٹس باگچی نے کہا کہ عدالت ٹربیونلز کی تعداد، ان کے کام کرنے کے گھنٹے اور معاملات کو نمٹانے کی شرح کا جائزہ لے گی۔ بنچ نے ووٹر فہرست سے نام ہٹنے کی وجہ سے لوگوں کو عوامی نظام تقسیم کے فوائد سے محروم کیے جانے کے مسئلے پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع کو ہائی کورٹ کے سامنے اٹھایا جانا چاہیے۔
ہائی کورٹ کے سابق ججوں کی سربراہی والے ان اپیلی ٹربیونلز کا قیام سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد کیا گیا تھا۔ حال ہی میں کلکتہ ہائی کورٹ نے تبصرہ کیا تھا کہ موجودہ رفتار سے تقریباً 34 لاکھ زیرِ التواء اپیلوں کو نمٹانے میں 21 سال کا وقت لگ سکتا ہے۔