Jadid Khabar

کھاد کے لیے قطاروں میں کھڑے کسان، انتخابات میں بی جے پی کے خلاف اس سے بھی لمبی قطار بنائیں گے: اکھلیش یادو

Thumb

 
لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش کے ضلع گونڈا میں کھاد حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے کسانوں کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج جن کسانوں کو کھاد کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے، وہی آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف اس سے بھی زیادہ لمبی قطار بنا کر اسے اقتدار سے باہر کر دیں گے۔
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ شدید بارش کے باوجود گونڈا میں کسان کھاد حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات میں اس سے دوگنی لمبی قطار بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لیے نظر آئے گی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’جب کھیت مسکرائیں گے تو ملک بھی مسکرائے گا۔‘
ایک دوسری پوسٹ میں بھی اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب تک بی جے پی کی بدعنوانی کا ’نالہ‘ بہتا رہے گا، ملک کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک کا سب سے بڑا بحران بی جے پی ہے اور اگر یہ حکومت چلی جائے تو حالات خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔
دوسری جانب گونڈا ضلع میں خریف سیزن کے دوران یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث مختلف کوآپریٹو سوسائٹیوں پر کسانوں کی لمبی قطاریں مسلسل موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ ریاستی وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی نے ضلع کا دورہ کرکے کھاد کی تقسیم کے انتظامات کا جائزہ لیا اور بعض مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کیں، تاہم اس کے باوجود کئی مراکز پر کسانوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں خواتین اور معمر کسانوں کو بھی موسلا دھار بارش کے دوران کھاد کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑا دیکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مادھو گنج اور ریتواگاڑا کی سادھن کوآپریٹیو کمیٹیوں پر پیر اور منگل کو بڑی تعداد میں کسان یوریا لینے پہنچے۔ متعدد کسانوں نے شکایت کی کہ صبح سے شام تک انتظار کرنے کے باوجود انہیں کھاد نہیں مل سکی، جبکہ بعض خواتین نے ساون کے روزے کے باوجود بارش میں کئی گھنٹے اپنی باری کا انتظار کیا۔
مقامی سطح پر کمیٹیوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ دستیاب ذخیرے کی مسلسل تقسیم کی جا رہی ہے، لیکن اچانک بڑھنے والی طلب اور غیر معمولی بھیڑ کے باعث دباؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بعض مقامات پر تقسیم کے عملے کی عدم موجودگی کے باعث بھی بدانتظامی کی شکایات سامنے آئیں۔
ادھر ضلع انتظامیہ اور محکمہ زراعت کا دعویٰ ہے کہ گونڈا ضلع میں کھاد کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور کسانوں کو ضروری مقدار میں کھاد فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم زمینی صورتحال کو لے کر اپوزیشن حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔