Jadid Khabar

’صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے پولیس، بات چیت کا راستہ اپنائے‘، دہلی طلبہ احتجاج پر سپریم کورٹ کا اہم بیان

Thumb

 
دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے اس عرضی کو اسی معاملے سے متعلق دیگر زیرِ التوا درخواستوں کے ساتھ یکجا کر دیا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا، ’’جمہوریت میں پرامن مارچ اور مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کو بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں افسران کو انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرنے چاہییں، تاکہ نوجوان تشدد کی راہ پر نہ چلیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے کہا کہ پرتشدد ردعمل سے کبھی کسی معاملے کا حل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس سے صورتحال مزید بگڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سب سے بڑی طاقت لوگوں کی بات سننا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کس وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کچھ بھٹکے ہوئے مظاہرین پتھراؤ بھی کرتے ہیں تب بھی پہلی ترجیح بات چیت ہونی چاہیے۔ افسران کو پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ تحریک کے پیچھے ان کی ناراضگی کی کیا وجہ ہے؟
سپریم کورٹ نے کہا کہ احتجاج کر رہے نوجوان جارحانہ رویے کے نہیں بلکہ مناسب صلاح، راہنمائی اور کاؤنسلنگ کے حقدار ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ نوجوان ہیں، انہیں بہت زیادہ مشاورت اور راہنمائی کی ضرورت ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ طاقتور ریاست کے نام پر دوسری جانب سے دکھایا گیا جارحانہ رویہ بھی حالات کو غیر ضروری طور پر سنگین بنا سکتا ہے اور مزید تشدد کو جنم دے سکتا ہے۔ عدالت نے یہ واضح کیا کہ ایسی صورتحال سے ہر حال میں بچا جانا چاہیے۔ حالانکہ سی جے آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے مظاہروں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے، اس کا حتمی فیصلہ لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے والی ایجنسیوں پر ہی چھوڑنا ہوگا، کیونکہ ان کے پاس ایسے حالات سے نمٹنے کا تجربہ اور مہارت ہے۔