ایران پر شدید حملے کی تیاری میں ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ تھمتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس ہفتے کے اختتام تک ایران پر ایک نیا حملہ کرے۔ یہ پیش رفت ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے تہران کے ساتھ جاری سفارتی بات چیت کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا تھا۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ میں جمعہ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد شدید فوجی جوابی کارروائی کی وارننگ دی تھی۔
ٹرمپ نے جمعہ کو میری لینڈ میں کیمپ ڈیوڈ پریسیڈنشیل ریٹریٹ میں کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ ’’ہم ان پر بہت زوردار حملہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘ دوسری طرف سی بی ایس نے رپورٹ دی ہے کہ واشنگٹن ایران کے انرجی سنٹرز، جیسے کہ بجلی گھروں اور پٹرولیم ریفائنریوں پر ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیموں نے کہا ہے کہ عام شہریوں کے زیر استعمال سہولیات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم ہو سکتا ہے۔ سی بی ایس کی رپورٹ کے بعد جمعہ کی دوپہر کو سیٹلمنٹ کے بعد کی ٹریڈنگ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلوی ٹی آئی) خام تیل کی قیمتیں 86 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔
ان رپورٹوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’’ایران کو تب تک قیمت چکانی پڑے گی جب تک وہ اس طریقے سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہو جاتا، جسے صدر ٹرمپ درست سمجھتے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے پہلے بھی کئی بار بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی وارننگ دی ہے، مسلسل جنگ کے باعث امریکی فوجی ذخائر کافی کم ہو گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فوجی حملوں کے بعد پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پھیل گیا ہے۔ اس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ اس وجہ سے خام تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی اہم سمندری ترسیلات کو گزرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔