محبوبہ مفتی کا پاکستان سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ
سری نگر، 30 جولائی (یو این آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کے روز پاکستان سے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف جاری سخت کارروائی بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے طاقت کے بجائے انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اور بات چیت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
محترمہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ "کنٹرول لائن کے اُس پار کشمیر کے دوسرے حصے" سے سامنے آنے والے مناظر انتہائی دل دہلا دینے والے ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کی کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "پُرامن مظاہرین کے ساتھ وحشیانہ طاقت کا استعمال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان کو زیادہ انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اپنانا چاہیے اور طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دینی چاہیے۔"
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات بظاہر حقیقی ہیں اور انہیں سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے ہی عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں دباکر یا بندوق کے زور پر خاموش کرا کے مضبوط نہیں بن سکتا۔
انہوں نے کہا، "حکومت کو کریک ڈاؤن فوری طور پر بند کرنا چاہیے اور پُرامن مظاہرین پر گولیاں برسانا بھی روکنا چاہیے۔ کشمیری عزت، انصاف اور اپنی بات کہنے کے حق کے مستحق ہیں، نہ کہ جبر کے۔"
پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں معاشی اور سیاسی مطالبات کو لے کر جون سے احتجاج جاری ہے، جو حالیہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر اور منگل کو ہونے والے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے۔
جموں و کشمیر کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بدھ کو نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر حکومت ہند پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ملک کا اٹوٹ حصہ سمجھتی ہے تو وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور عوام کو درپیش مشکلات پر بھی آواز اٹھانی چاہیے۔
سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور کولگام سے رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی نے کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نہتے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو فوری طور پر روکنے، تمام زیر حراست افراد کی رہائی، خوراک اور طبی سہولیات تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے اور ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔