Jadid Khabar

’میلانیا ٹرمپ کو کہاں مارنا ہے؟‘ ایران نے امریکی خاتونِ اوّل کے خلاف جاری کی ویڈیو، ہنگامہ برپا

Thumb

 
امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور ان کے بیٹے بیرن ٹرمپ کو نشانہ بناتے ہوئے ایران کی ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ اس ویڈیو میں اسلامی حکومت کے حمایتیوں کو مبینہ طور پر امریکی صدر ٹرمپ کی اہلیہ کا قتل کرنے کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔ یہ ویڈیو ’میلانیا ٹرمپ کو کہاں ماریں‘ کے نام سے جاری کی گئی ہے۔ ویڈیو میں میلانیا ٹرمپ کی تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ ویڈیو میں ان کے قافلے اور نیویارک شہر کے کچھ مقامات کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ ویڈیو میں ان ڈیزائنر دکانوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں، جہاں جہاں وہ خریداری کرتی ہیں۔ ویڈیو میں دعوی کیا گیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ کی خریداری سے وابستہ یہ سرگرمیاں دنیا بھر میں ’آزادی کے جنگجوؤں‘ کی مہم کے لیے مناسب ثابت ہو سکتی ہیں۔ ویڈیو میں کپڑوں کو زہریلے کیمیکل سے متاثر کرنے کی بات کی گئی ہے، جو جسم کے اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس معاملے میں ایسٹ ونگ اور سیکرٹ سروس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ویڈیو میں 20 سالہ بیرن ٹرمپ کو بھی دھمکی دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ تو بس آغاز ہے۔ بیرن ٹرمپ ہمارا انتظار کرو۔ میلانیا ٹرمپ اور بیرن ٹرمپ کے تحفظ کے لیے ہر وقت سیکرٹ سروس کے جوان تعینات رہتے ہیں۔ ٹرمپ کی سبھی رہائشوں پر، مثلاً وائٹ ہاؤس، نیویارک میں واقع ٹرمپ ٹاور، بیڈ منسٹر گولف کلب اور فلوریڈا میں واقع مار-اے-لاگو اسٹیٹ کو سخت حفاظت فراہم کی گئی ہے۔ ایران سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ کے کنبے کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے تہران میں کئی مقامات پر ایسی ہورڈنگ لگائی گئیں، جس میں صدر ٹرمپ اور ان کے کنبے کو مارنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس میں میلانیا ٹرمپ اور ان کے سبھی بچے ڈان جونیئر، ایوانکا، ایرک، ٹفنی اور بیرن شامل تھے۔ ان ہورڈنگ پر لکھا تھا ’خون کے بدلے خون‘۔ میلانیا ٹرمپ اس مہینے بیشتر عوامی پروگراموں میں شامل نہیں ہوئی ہیں۔ وہ جمعہ کی رات منعقدہ وائٹ ہاؤس پریس کانفرنس ڈنر میں بھی شریک نہیں ہوئی تھیں۔ ان کے ایک قریبی ذرائع نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ ان کے پروگرام پہلے سے طے شدہ تھے۔ اس لیے وہ اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کو بھی ایران کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ایران کے نشانے پر ہیں۔ یہ بات تب سامنے آئی جب امریکہ اور اسرائیل کی ایک مہم میں ایران کے سپریم لیڈر اور حکومت سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ غور طلب ہے کہ اس مہینے کے آغاز میں صدر ٹرمپ کو اپنا نیا ایئر فورس وَن طیارہ چھوڑ کر پرانے طیارے کے ذریعہ ترکیہ سے واپس ہونا پڑا تھا۔ وہ ترکیہ میں ناٹو اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ نیو یارک ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق یہ قدم ایران سے ملی دھمکیوں کے سبب اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ اگر ایران انہیں مارنے کی سازش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو انہوں نے ہدایت دے دی ہے کہ اس کے سنگین نتائج ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں طویل عرصے سے ان کی فہرست میں شامل ہوں۔