Jadid Khabar

سپریم کورٹ کا بغیر مجرمانہ ریکارڈ والے طلباء کو رہا کرنے کا حکم

Thumb

نئی دہلی، 28 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار یا حراست میں لئے گئے ان تمام طلباء کو منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت اور آسام، بہار، مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نیز کیرالہ حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔
 
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک گیر طلباء کے مظاہروں کے دوران طلباء اور پولیس اہلکاروں کو آئی چوٹوں کے الزامات کی منصفانہ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں عبوری ہدایات کا ایک سلسلہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اپنے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتی ہے۔
 چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ پولیس بربریت کے الزامات والی عرضیوں کے ساتھ ساتھ زخمی پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندوں کی طرف سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے طلبا مظاہرین کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے نیز ایسی معلومات کو فی الحال عام نہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے خاص طور پر ہدایت دی کہ مظاہرین کی ذاتی تفصیلات شائع نہ کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، بغیر کسی مجرمانہ پس منظر والے طلباء کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی تادیبی یا جابرانہ کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ان واقعات سے جڑے تمام سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج، کیمرہ ریکارڈنگ، وائرلیس ریکارڈ اور پی سی آر لاگ کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
 یو این آئی ایف اے