نیٹ پیپر لیک اور تعلیمی نظام معاملہ پر آج ایک بار پھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ لوک سبھا کی کارروائی تو شروع ہوتے ہی ہنگامہ شروع ہو گیا اور اس وجہ سے ایوان زیریں کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک کے لیے، وار پھر 27 جولائی کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا میں بھی حالات کچھ ایسے ہی رہے۔ ملکارجن کھڑگے نے جیسے ہی کہا کہ ’’20 جولائی کو جس طرح سے لاٹھی چارج ہوا، اس سے میرا من افسردہ ہے۔‘‘ اتنا کہتے ہی برسراقتدار طبقہ کی طرف سے ہنگامہ شروع ہو گیا، نتیجہ یہ رہا کہ ایوان بالا کی کارروائی 2 بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔
پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ احاطہ دونوں ہی جگہ کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے طریقۂ کار کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر وزیر اعظم مودی کچھ بولنا چاہتے ہیں، تو ایوان میں آ کر بولیں، تبھی ہم ان کی باتوں کو قابل اعتبار سمجھیں گے۔ انھیں رات میں 12 بجے بیان دینے کی جگہ دن میں پارلیمنٹ میں آ کر بولنا چاہیے۔‘‘ آج پارلمیانی کارروائی شروع ہونے سے قبل بھی انھوں نے اپوزیشن پارٹیوں کے دیگر لیڈران کے ساتھ مودی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرایا۔ پارلیمنٹ احاطہ میں اپوزیشن لیڈران نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی بلند کیے۔
اس درمیان کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے سونیا گاندھی کے بیان کا حوالہ پیش کرتے ہوئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پرینکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت نے نہ صرف ہندوستان کے تعلیمی نظام کی سطح کو گرایا ہے، بلکہ پوری طرح سے منمانی، زبردست گمراہی اور شدید بے حسی کے ساتھ کام کرنے کی اپنی عادت بھی بنا لی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’ہندوستان کے طلبا نے مودی حکومت کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کے ساتھ کھڑے ہونا اور ان کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہماری اخلاقی، سیاسی و آئینی ذمہ داری ہے۔‘‘