Jadid Khabar

سونم وانگچک نے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں بھوک ہڑتال ختم کی

Thumb

نئی دہلی، 24 جولائی(یو این آئی) سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک نے جمعرات کی رات اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ وہ 28 جون سے مسلسل بھوک ہڑتال پر تھے۔
سونم وانگچک نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی موجودگی میں گروگرام کے میدانتا اسپتال میں جوس پی کر اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔
انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بینر تلے 28 جون سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ ہفتے کے روز طبیعت زیادہ خراب ہونے پر پولیس انہیں جنتر منتر سے ہٹا کر زبردستی صفدرجنگ اسپتال لے گئی تھی۔ بعد ازاں دہلی ہائی کورٹ کی مداخلت اور وانگچک کی خواہش کے مطابق انہیں میدانتا اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے منگل کے روز اسپتال جا کر وانگچک سے ملاقات کی تھی اور ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔ دونوں وزراء نے کہا تھا کہ حکومت پرچہ لیک کے معاملات میں مناسب اقدامات کر رہی ہے۔
اس کے بعد سونم وانگچک نے دونوں وزراء کے نام ایک کھلا خط لکھا، جس میں ان کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت یہ بھی یقین دہانی کرائے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔
تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حکومت نے سونم وانگچک کو کون سی یقین دہانیاں کرائی ہیں، جس کے بعد انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔