چنئی، 22 جولائی (یو این آئی) تمل ناڈو کے دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بدھ کے روز کہا کہ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیٹ کا خاتمہ ہی ان تمام مسائل کا مستقل حل ہے۔
مسٹر اسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے نے سب سے پہلے خبردار کیا تھا کہ نیٹ کو بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور دھاندلی کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسی لیے پارٹی نے ابتدا ہی سے اس کی مخالفت کی اور مسلسل اس کے ممکنہ نقصانات کی نشاندہی کرتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کے تحفظ میں ملک کی رہنمائی کرنے والے اور آئین میں پہلی ترمیم کی راہ ہموار کرنے والے تمل ناڈو کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ نیٹ کو ختم کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں مسٹر اسٹالن نے کہا، "نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج نے اب پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ہم نے سب سے پہلے خبردار کیا تھا کہ نیٹ کا ڈھانچہ ہی بڑے پیمانے پر دھاندلی کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ڈی ایم کے نے ابتدا ہی سے نیٹ کی مخالفت کی ہے اور اس کے خطرات کو مسلسل عوام کے سامنے لاتی رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "سماجی انصاف کی جدوجہد میں ملک کی قیادت کرنے والے اور آئین میں پہلی ترمیم کی بنیاد رکھنے والے تمل ناڈو کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ نیٹ کا خاتمہ کیا جائے۔ کسی بھی دوسرے مطالبے سے بڑھ کر ان احتجاجی مظاہروں کا اصل محور نیٹ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ صرف نیٹ کو منسوخ کرنے سے ہی ان تمام مسائل کا مستقل حل ممکن ہے۔"
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہیش ٹیگ کے ذریعے نیٹ پر پابندی لگانے اور طلبہ کو بچانے کا مطالبہ بھی کیا۔