شیوسینا یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے شیوسینا میں انضمام کو منظوری دینے والے لوک سبھا اسپیکر کے حکم پر فی الحال روک لگانے سے سپریم کورٹ نے انکار کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اسپیکر آفس اور انضمام کرنے والے 6 اراکین پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اب اس معاملے میں 2 ہفتے بعد سماعت ہوگی۔ شیوسینا یو بی ٹی کی جانب سے پیش وکیل دیودت کامت نے دلیل دی کہ یہ اراکین پارلیمنٹ یکطرفہ انضمام کا فیصلہ نہیں لے سکتے تھے۔ ہم عبوری حکم کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں معاملے کی آئندہ سماعت 2 ہفتے کے بعد ہوگی۔
دیودت کامت نے عدالت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عبوری حکم کے لیے آئندہ ہفتہ سماعت کر لیجیے تو عدالت نے واضح کیا کہ 2 ہفتے بعد ہی سماعت ہوگی۔ دوسری جانب ایکناتھ شندے کے وکیل نیرج کول نے کہا کہ ہم ایک ایک بات کا جواب دیں گے۔ واضح رہے کہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل شیوسینا یو بی ٹی کے 6 اراکین پارلیمنٹ کو ایکانتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں انضمام کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد اب ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا میں صرف 3 اراکین پارلیمنٹ باقی رہ گئے ہیں۔
جن 6 اراکین پارلیمنٹ نے ادھو ٹھاکے کا ساتھ چھوڑا ہے ان میں سنجے دیش مکھ (یوتمال)، سنجے جادھو (پربھنی)، سنجے دینا پاٹل (ممبئی نارتھ ایسٹ)، ناگیش پاٹل (ہنگولی)، اوم پرکاش راجے نمبالکر (دھاراشیو) اور بابو صاحب واکچورے (شرڈی) شامل ہیں۔ ان 6 اراکین پارلیمنٹ کے پارٹی سے الگ ہو جانے کے بعد لوک سبھا میں ادھو ٹھاکرے کے صرف 3 اراکین ہی رہ گئے ہیں۔ ان میں اروند ساونت (ممبئی جنوب)، انل دیسائی (ممبئی جنوب وسطی) اور راجا بھاؤ واجے (ناسک) شامل ہیں۔