امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کناڈا کے خلاف اپنی ٹیرف مہم میں اب جنگلوں کی آتشزدگی کا مسئلہ بھی شامل کر لیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ کناڈا اپنے جنگلات کی صحیح طریقے سے صفائی اور دیکھ بھال نہیں کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں آلودہ اور خطرناک آب و ہوا پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوا لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے اور بالکل ناقابل قبول ہے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اس مسئلے پر کناڈا کے وزیراعظم مارک کارنی سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کناڈا کی حکومت جنگلوں کی آگ روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس دھوئیں سے امریکہ کو ہونے والا مالی نقصان سوچ سے پرے ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کناڈا پر قصداً لاپروائی کرنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال یہی مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے امریکی شہریوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے کناڈا سے آنے والے سامانوں پر پہلے سے لگائے گئے ٹیرف میں آلودگی کی لاگت بھی شامل کر دی جائے گی۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب کناڈا میں تقریباً 850 جنگلوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کناڈا کے صوبہ ’اونٹاریو‘ میں ہی 180 سے زیادہ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے۔ امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ کے مطابق اس آتشزدگی سے اٹھنے والا دھواں شمالی امریکہ کے بڑے حصوں میں پھیل چکا ہے۔ اس دھوئیں کی وجہ سے امریکہ کے 20 سے زیادہ صوبوں میں ایئر کوالٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
’اپر مڈ ویسٹ‘ سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں تک کے کئی علاقوں میں لوگوں کو کم باہر نکلنے اور ضرورت سے زیادہ جسمانی سرگرمیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ آب و ہوا میں موجود انتہائی باریک آلودہ ذرات صحت کے لیے غیر محفوظ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ حالانکہ آتشزدگی کا مسئلہ صرف کناڈا تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں بھی 150 سے زیادہ جنگلوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ جس میں ’مشیگن‘ کے کئی علاقے شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے شمالی امریکہ کے کئی حصوں میں خشک سالی اور ریکارڈ توڑ گرمی جنگلات میں تیزی سے آگ پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ یوں تو ٹرمپ نے اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا جائے گا۔ عام طور پر درآمدی سامان پر ٹیرف عائد کیے جاتے ہیں، لیکن دھویں یا فضائی آلودگی پر ٹیرف کے لیے کوئی واضح قانونی بندوبست نہیں ہے۔ اس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ اپنی تجویز کو عملی طور پر کیسے نافذ کریں گے۔