Jadid Khabar

امریکی صدر ٹرمپ نے چین پر عائد کیا 22 کروڑ امریکی ووٹرس کا ڈاٹا چوری کرنے کا سنگین الزام

Thumb

 
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 17 جولائی کو اپنے ملک کے نام ایک خطاب میں کئی اہم باتیں سامنے رکھیں۔ انہوں نے چین پر ایک سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 22 کروڑ امریکی ووٹرس کا ڈاٹا چوری کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران اس ڈاٹا چوری کے علاوہ معیشت، قومی سیکورٹی اور انتخابات سمیت کئی اہم مسائل کا ذکر کیا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ کچھ عہدیداروں اور ’ڈیپ اسٹیٹ‘ نے چین سے متعلق ڈاٹا چوری معاملہ کو چھپانے کی پوری کوشش کی۔ ان کے مطابق اس طرح کی ڈاٹا چوری امریکہ کی انتخابی سیکورٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انتخابات کرانے کا جو نظام ہے، وہ غیر جانب دار اور محفوظ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ڈاٹا چوری کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’اس معلومات میں نام، پتے، فون نمبر، سیاسی پارٹیوں سے متعلق ترجیحات اور دیگر حساس ڈاٹا شامل ہے، جو ووٹ دینے اور دیگر سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‘‘
ٹرمپ نے محکمۂ انصاف، ایف بی آئی اور سی آئی اے کو مبینہ طور پر اس معلومات کو چھپانے کے ذمہ دار لوگوں کی تحقیقات کرنے اور فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چینی حکومت نے ان امریکی صحافیوں کی شناخت کرنے کی کوشش کی جنہوں نے امریکی صدر کے بارے میں منفی رپورٹنگ کی تھی اور انہیں زیادہ سے زیادہ منفی مضامین لکھنے کے لیے بڑی رقم دینے کی کوشش کی۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ ’’چینی حکومت چاہتی تھی کہ امریکی صدر اگلا انتخاب ہار جائیں۔ ہماری حکومت طویل عرصہ سے جانتی ہے کہ ان مشینوں پر حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ امریکہ کے حریف، جن میں کم از کم روس، چین، ایران، شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی گروپ بھی شامل ہیں، امریکی انتخابی بنیادی ڈھانچے سے سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنے ملک کی ریاستوں کے مسائل کے بارے میں گورنروں، سینیٹروں اور کانگریس کے ارکان کو بتائیں گے۔ اگر آپ آج ووٹنگ پر نظر ڈالیں تو کئی ریاستوں میں صورت حال بہت خراب ہے اور ہم اسے درست کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں تمام امریکیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنا فون اٹھائیں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنے نمائندوں کو فون کریں اور مطالبہ کریں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ منظور کریں۔‘‘