Jadid Khabar

کانگریس کی بھی وانگچک کو حمایت

Thumb

نئی دہلی، 17 جولائی (یو این آئی) سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کے درمیان کانگریس کی جانب سے شعبۂ مواصلات کے سربراہ مسٹر پون کھیڑا نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کر کے ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا۔
 
مسٹر کھیڑا نے آج صبح جنتر منتر پہنچ کر مسٹر وانگچک سے ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان سے تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر وانگچک گزشتہ 20 دنوں سے مختلف امتحانات کے پیپر لیک ہونے اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے تعلق سے  وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
 
ملاقات کے بعد مسٹر کھیڑا نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس مسٹر وانگچک کی صحت کے تعلق سے  فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم سبھی سونم وانگچک کی صحت کے بارے میں  فکر مند ہیں۔ ہم ایک ایسی انتہائی بے حس سرکار کا سامنا کر رہے ہیں، جو جمہوری احتجاج کی زبان نہیں سمجھتی۔ ایسی سرکار کے سامنے احتجاج کے طریقوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس سرکار کے خلاف اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔" کانگریس کے جنرل سکریٹری مسٹر کے سی وینوگوپال نے بھی جمعرات کو مسٹر وانگچک کی صحت کے تعلق سے  تشویش کا اظہار کیا تھا۔
 
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ کانگریس مسلسل طلبہ کے مسائل اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم کافی وقت سے 'چھاتروں کی گونج' مہم چلا رہے ہیں۔ ہمارے کارکن گلی گلی، محلوں اور یونیورسٹی کیمپس میں ان مسائل کو اٹھا رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ تک محدود نہیں ہے، بلکہ امتحانات میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا بھی ہے۔" کانگریس نے دہرایا ہے کہ وہ طلبہ کے مفادات، امتحانی نظام میں اصلاحات اور جوابدہی کے مطالبے کے حق میں  اپنی مہم جاری رکھے گی۔
 
مسٹر کھیڑا نے وانگچک کی خیریت معلوم کی  اور کہا کہ لداخ کے لوگوں کے جمہوری اور آئینی مطالبات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے مرکزی سرکار سے اس مسئلے پر مثبت پہل کرتے ہوئے بات چیت کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنے کی اپیل کی۔