جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر چلانے کا حکم
نئی دہلی، 16 جولائی (جدید خبر)
سماج وادی پارٹی کے قد آور لیڈر محمد اعظم خان اس وقت اپنے بیٹے کے ساتھ رامپور جیل میں قید ہیں ۔ اس دوران رامپور میں تعمیر کئے گئے ان کے ڈریم پروجیکٹ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو ناجائز تعمیرات قرار دے کر منہدم کرنے کا حکم ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب وہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔ 40 عمارتوں میں صرف میڈیکل کالج اور اکیڈمک بلاک کو جائز اور باقی جن 38 عمارتوں کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، ان میں ایک عالیشان مسجد بھی شامل ہے ۔
تفصیلات کے مطابق 40 میں سے صرف دو عمارتوں کا نقشہ ہی پاس ہے باقی 38 عمارتیں نقشے کے بغیر بنانے کی وجہ سے ناجائز تعمیرات کے ذیل میں رکھی گئی ہیں اور انھیں ہٹانے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو محض دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے ۔ اگر اس عرصے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے خود انہیں منہدم نہیں کیا تو رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی ان پر بلڈوزر چلا دے گی۔ اس طرح آزادی کے بعد اتر پردیش میں اعظم خان کی انتھک محنت اور جدوجہد سے وجود میں آئی مسلمانوں کی پہلی یونیورسٹی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی ۔ اس سے قبل یونیورسٹی کے خلاف ای ڈی اور انکم ٹیکس کی کارروائی عمل میں آچکی ہے اور یونیورسٹی کو ایک تعلیمی ادارے کے طور پر ٹیکس میں ملی ہوئی چھوٹ واپس لے لی گئی ہے ۔ یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 82000 مربع میٹر سے زیادہ علاقے میں تعمیرات ہیں۔ حالانکہ رامپور ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ افسروں سے کہا ہے کہ انہدام کے دوران یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے مگر جب ان کے کلاس روم ہی توڑ دئیے جائیں گے تو وہ پڑھیں گے کہاں؟