عمر عبداللہ نے سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر مرکز کی خاموشی پر سوال اٹھایا
سری نگر، 16 جولائی (یواین آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر مرکزی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکز اس معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ''سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے 19 دن ہو چکے ہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہیں، ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ نیٹ (NEET) پرچہ لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم یا تو استعفیٰ دیں یا انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ وانگچک کا وزن اب تک تقریباً نو کلوگرام کم ہو چکا ہے، جس سے ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نہ تو اپنے مؤقف سے ہٹ رہی ہے اور نہ ہی انہیں روزہ ختم کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔''
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاست کو کبھی بھی انسانیت اور ہمدردی پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ''سیاست میں انسانیت اور رحم دلی کے لیے ہمیشہ جگہ ہونی چاہیے۔''
انا ہزارے کی قیادت میں چلنے والی انسدادِ بدعنوانی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت کی مرکزی حکومت نے بھوک ہڑتال کے دوران انا ہزارے سے مذاکرات کے لیے وزراء کو بھیجا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ''جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے تو انا ہزارے سے بات چیت کرنے اور انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے وزراء بھیجے گئے تھے، لیکن اب تک سونم وانگچک سے بات چیت کی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔''
انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ حکومت آئندہ کیا قدم اٹھائے گی، لیکن وہ سونم وانگچک کی صحت کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ اس احتجاج میں وانگچک کا ساتھ دے رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک انصاف کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ''ان کا مطالبہ غلط نہیں ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی۔'
وزیر اعلیٰ نے ان سیاسی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے چچا مصطفیٰ کمال کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر آئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض لوگ اس موقع پر بھی سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ''یہ گھر غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگر لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں تو انہیں باہر جا کر اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ یہ مناسب نہیں لگتا، اور میں یہاں سیاسی بات چیت نہیں کروں گا۔''