مستقبل کی جنگوں میں اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کا کردار فیصلہ کن رہے گا: راج ناتھ
نئی دہلی، 16 جولائی (یو این آئی) وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ جدید ترین ہتھیاروں اور جدید فوجی ٹیکنالوجیز کے باوجود سڑکیں، سرنگیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں جیسے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر فوجی مہمات کے لیے مستقبل میں بھی انتہائی اہم رہیں گے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کو یہاں بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو محاذ تک پہنچانے والی سڑک بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ سرحد پر تعینات فوجی، اس لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کرنے والے بھی قومی سلامتی کے مساوی طور پر اہم محافظ ہیں۔ وزیرِ دفاع نے بارڈر روڈز آرگنائزیشن کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک عام سڑک تعمیر کرنے والی ایجنسی سے دنیا کی معززاسٹریٹجک انفراسٹرکچر تنظیموں میں مقام بنایا ہے۔ انہوں نے اٹل سرنگ، سیلا سرنگ اور املنگ لا درہ جیسے پروجیکٹوں کو تنظیم کی انجینئرنگ کی صلاحیت اور بہترین کام کا نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکار جدید انفراسٹرکچر اور وائبڑینٹ ولیج پروگرام کے ذریعے سرحدی علاقوں میں رابطے کے نظام کو مضبوط بنا کر قومی سلامتی کو مستحکم کرنے اور سال 2047 تک ترقی یافتہ ملک کے ہدف کو حاصل کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
مسٹر سنگھ نے اس موقع پر بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے نئے ڈیجیٹل پروجیکٹ مینجمنٹ اور بھرتی کے نظام کا آغاز کیا، تنظیم کی تین اہم مطبوعات کا اجرا کیا، بی آر او ترانے کی نقاب کشائی کی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پروجیکٹوں کو نوازا۔ دو روزہ کانفرنس میں سرحدی علاقوں میں اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اختراع اور پائیدار تعمیراتی طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔