Jadid Khabar

مصطفیٰ کمال کی رحلت کے باوجود 20 جولائی کو ریاستی درجے کے لیے احتجاجی پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی: عمر عبداللہ

Thumb

سری نگر، 15 جولائی (یو این آئی)جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز واضح کیا ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر مصطفیٰ کمال کے اچانک انتقال کے باوجود، نیشنل کانفرنس کے زیرِ اہتمام 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دلانے کے لیے مجوزہ احتجاجی مظاہرے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور عمر عبداللہ کے چچا مصطفیٰ کمال (84 سال) منگل کی شام سری نگر میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے چھوٹے بھائی اور شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے فرزند تھے۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ خود مرحوم رہنما بھی کبھی یہ نہ چاہتے کہ دہلی کا یہ اہم پروگرام ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے کہا"اس پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ نہ ہی مصطفیٰ کمال صاحب کبھی اس میں کسی قسم کی تبدیلی پسند کرتے۔"مرحوم رہنما کے آخری ایام کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 11 جولائی کو مصطفیٰ کمال کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی اور ڈاکٹروں نے ان کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا"ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا تھا کہ شاید وہ 11 تاریخ کی رات بھی نہ نکال پائیں۔ لیکن اس نازک صورتحال کے باوجود پارٹی صدر فاروق عبداللہ صاحب نے مجھ سے واضح طور پر کہا تھا کہ مصطفیٰ صاحب کو کچھ بھی ہو جائے، 12 جولائی کو جموں میں ہونے والی پارٹی ریلی ہر حال میں منعقد ہونی چاہیے۔"
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ جب پارٹی نے غمگین  خاندانی حالات میں بھی اپنے سیاسی پروگرام منسوخ نہیں کیے، تو اب 20 جولائی کے احتجاج کو ملتوی کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پولیس کی اجازت ملے یا نہ ملے، دہلی روانگی طے ہےوزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت ملنے یا نہ ملنے سے قطع نظر، پارٹی قائدین 19 جولائی کو ہر صورت قومی دارالحکومت کے لیے روانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا"ہمیں ابھی تک اجازت کے لیے انتظار کروایا جا رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے 11 جولائی کو بھی کہا تھا، ہم صبر کرنا جانتے ہیں۔ ہمارا متبادل منصوبہ تیار ہے۔ ہم 19 تاریخ کو دہلی جائیں گے اور وہاں بیٹھ کر اگلی حکمت عملی طے کریں گے۔"