اسرائیل کا غزہ پر حملہ، 9 سالہ بچی سمیت 8 فلسطینی ہلاک
غزہ، 13 جولائی (یو این آئی) گزشتہ اکتوبر سے نافذ العمل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جس کے دوران اسرائیلی حملوں میں ایک بچے سمیت پانچ فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
طبی عملے نے گزشتہ روز بتایا کہ غزہ کے وسط میں واقع بریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی جانب خیموں کی ایک بستی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 9 سالہ تالا ابو مطر جاں بحق ہو گئی۔
فلسطینی ہلالِ احمر نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی غزہ کے علاقے صبرا میں ایک ورکشاپ پر اسرائیلی حملے میں دو فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ تنظیم نے وضاحت کی کہ اس حملے میں ایک تیسرا فلسطینی زخمی بھی ہوا ہے اور متاثرین کے اجسام ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے اس عمارت پر کم از کم تین میزائل داغے جو ورکشاپ کے علاقے میں واقع الرئیس محلے میں موجود ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غزہ کے وسط میں واقع بریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں جمعہ کے روز اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والا ایک فلسطینی شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
جنوبی غزہ میں، خان یونس کے مشرق میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور فلسطینی بھی بچایا نہ جا سکا۔
دوسری جانب، عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوج نے خان یونس کے جنوب اور غزہ کے مشرق میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں فلسطینیوں کے گھروں اور عمارتوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ خان یونس اور غزہ میں مسماری کے کاموں کے دوران زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل نے کم از کم 1,098 فلسطینیوں کو شہید اور 3,535 فلسطینیوں کو زخمی کیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل کی نسل کشی کے نتیجے میں اب تک 73,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 173,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس نے سویلین انفراسٹرکچر کے تقریباً 90 فیصد حصے کو متاثر کیا ہے۔"
یو این آئی۔ ع ا۔