پاکستان کا بوئنگ-737 طیارہ پرواز کے کچھ دیر بعد ہی لاپتہ
پاکستان ایئرویز کا 27 سال پرانا ’کے 2 بوئنگ 737‘ مال بردار طیارہ متحدہ عرب امارات کے شارجہ سے پرواز بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا ہے۔ پاکستان کے ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارے میں عملہ کے 5 ارکان سوار تھے۔ یہ طیارہ کراچی جا رہا تھا، لیکن منگل کی رات پرواز بھرنے کے بعد نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دینے کے کچھ ہی دیر بعد اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے منقطع ہو گیا۔ ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق رات 9.18 بجے طیارے نے کراچی کی جانب پرواز کرتے ہوئے اپنے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد طیارے کی بلندی میں مسلسل تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔ جب طیارہ سے رابطہ منقطع ہوا تو وہ کراچی سے تقریباً 287 کلومیٹر مغرب کی جانب پرواز کر رہا تھا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اورمارا کے قریب بحیرۂ عرب کے اوپر پرواز کرنے کے دوران لاپتہ ہوا۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے فلائٹ ٹریکنگ سروس، فلائٹ رڈار24 کے ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مال بردار ہوائی جہاز کراچی کے جنوب مغرب میں بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ اس سے قبل طیارے کی بلندی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھے گئے اور آخرکار وہ طیارہ تیزی سے نیچے گر گیا۔ فلائٹ رڈار24 کے ٹریکنگ ڈاٹا کے مطابق لاپتہ ہونے سے قبل آخری منٹوں میں طیارے نے انتہائی غیر معمولی پرواز کی۔ طیارہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5000 فٹ نیچے آ گیا۔ اس کے بعد صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6000 فٹ اوپر پہنچ گیا۔ لیکن اس کے فوراً بعد طیارہ 36550 فٹ کی بلندی سے تیزی کے ساتھ نیچے گر گیا۔ اس کے بعد سے طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا اور اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پاکستان کے ایئرپورٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ بحیرۂ عرب میں لاپتہ ہونے والے طیارے کی تلاش کے لیے سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مہم میں پاکستان کی فوجی اور شہری ایجنسیوں نے فضائی اور بحری وسائل تعینات کر دیے ہیں۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ پاکستانی بحریہ کے جنگی جہاز ’پی این ایس‘ ذوالفقار کو فوری طور پر اس علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جہاں طیارے کا رابطہ منقطع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستانی فضائیہ نے بھی اپنے طیارے تلاشی مہم میں لگا دیے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی بحریہ کا ’اے ٹی آر‘ طیارہ تربت سے روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ایک تجارتی جہاز کو بھی راحت رسانی کی مہم میں شامل کیا گیا ہے۔ فی الحال اس حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔