Jadid Khabar

ہندوستانی ملاح کی لاش سے اہم اعضا غائب ہونے پر ہندوستان کا سخت موقف

Thumb

 
وینزویلا  میں ایک ہندوستانی ملاح کی مشتبہ حالات میں موت کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ ہندوستان واپس آئی ان کی لاش سے غائب کئی اعضا پر ہندوستانی حکومت نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے 3 جولائی کو بتایا کہ اس معاملے کو وینزویلا کے افسران کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی پورے معاملے کی فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دراصل اتر پردیش کے رہنے والے 33 سالہ راکیش چوہان کی 7 مئی کو وینزویلا کی فالکن ریاست میں دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔ وینزویلا کے ایک میڈیکل سینٹر کے ذریعہ موت کی سرٹیفکیٹ میں موت کی وجہ دورہ پڑنا بتایا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ راکیش چوہان کی لاش ہندوستان لائی گئی تھی۔
اس کے بعد اتر پردیش میں راکیش چوہان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ جس میں انتہائی چونکا دینے والا انکشاف ہوا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش سے  دماغ، دل، پھیپھڑے، جگر، گردے، معدہ اور آنتیں سمیت کئی اہم اعضاء غائب تھے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا کہ اعضاء کے نہیں ہونے کی وجہ سے موت کی وجوہات کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔
راکیش چوہان کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کا قتل کیا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق چوہان نے آخری بار 7 مئی کی صبح بات کی تھی۔ اس کے فوراً بعد ان کے اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ وہ گر کر بے ہوش ہو گئے ہیں اور حالت انتہائی نازک ہے۔ اس کے بعد اہل خانہ کو راکیش چوہان کی موت کی خبر دی گئی۔ اس معاملے کو فارورڈ سیمین یونین آف انڈیا (ایف ایس یو آئی) اور کئی اراکین پارلیمنٹ نے بھی اٹھایا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس تعلق سے کہا کہ ’’ہم نے وینزویلا کے افسران کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا ہے اور فوری طور پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم اس معاملے کے متعلق آپ کو اپ ڈٹ کرتے رہیں گے۔‘‘ اس سے قبل کاراکاس میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے کہا تھا کہ اس نے وینزویلا کے افسران سے راکیش چوہان کی لاش کی بے حرمتی اور اعضاء نکالے جانے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارت خانے نے کہا کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد وہ متعلقہ مقامی افسران کے ساتھ رابطے میں ہے۔