Jadid Khabar

ٹرمپ کی پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش ناکام، کانگریس سے نیا قانون لانے کی اپیل

Thumb

واشنگٹن، یکم جولائی (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن اکثریت والی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف قانون سازی کرے جس میں پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی ان کی کوشش مسترد کر دی گئی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت کے حق کو برقرار رکھا ہے، جو ان کے بقول ملک کے لیے افسوسناک ہے، تاہم کانگریس قانون سازی کے ذریعے اس صورت حال کو آسانی سے تبدیل کر سکتی ہے۔
 
امریکی سپریم کورٹ نے منگل کے روز اپنی عدالتی مدت کے آخری دن سنائے گئے ایک اہم فیصلے میں چھ کے مقابلے میں تین ووٹوں کی اکثریت سے قرار دیا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد کو امریکی شہریت حاصل کرنے کا آئینی حق حاصل رہے گا۔
 
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کی موجودہ پالیسی غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر امریکہ آنے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ ان کے بچوں کو خودکار طور پر امریکی شہریت مل سکے۔
 
عدالت نے اپنے فیصلے میں امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کی طویل عرصے سے قائم تشریح پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ جدید وفاقی قوانین کے مطابق امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر شخص، چند محدود استثنیٰ کے علاوہ، امریکی شہری تصور کیا جائے گا۔
 
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ماضی کی طرح آج بھی امریکی سیاسی برادری میں مکمل شرکت کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کانگریس کی تاریخی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چودھویں ترمیم کا مقصد اس سرزمین پر آزاد پیدا ہونے والے ہر فرد کو شہریت کا حق دینا تھا اور عدالت آج بھی اسی اصول پر قائم ہے۔
 
فیصلے سے اختلاف کرنے والے تین قدامت پسند ججوں میں جسٹس کلیرنس تھامس بھی شامل تھے، جنہوں نے 91 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدالت نے صدر کے اس حکم کو غیر آئینی قرار دے کر ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے، جس کے تحت عارضی غیر ملکی زائرین اور غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ چودھویں ترمیم بنیادی طور پر غلامی سے آزاد ہونے والے سیاہ فام شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، لیکن بعد میں اس کی تشریح ایسے مقاصد کے لیے کی گئی جن کی اس وقت کی کانگریس نے حمایت نہیں کی تھی۔
 
واضح رہے کہ متعدد وفاقی نچلی عدالتیں پہلے ہی صدر ٹرمپ کے اس حکم پر عمل درآمد روک چکی تھیں، جس کے باعث یہ پابندیاں امریکہ میں کہیں بھی نافذ نہیں ہو سکیں۔