Jadid Khabar

پاکستان پر افغانستان کے فضائی حملے

Thumb

 
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری فوجی تنازع کی وجہ سے اس وقت حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستانی حدود میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑا فضائی حملہ کیا ہے۔ طالبان کے مطابق یہ ٹھکانے افغانستان میں شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں کے دو دن بعد  یہ جوابی کارروائی سامنے آئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ یہ بڑا فوجی آپریشن پاکستان کے بلوچستان اور خیبرپختونخوا صوبوں میں کیا گیا۔ افغان نیوز چینل طلوع نیوز نے بھی اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کے ڈرون نے براہ راست ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں داعش کے دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔ طالبان نے واضح کیا کہ حملے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، جب کہ شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
طالبان کی اس بڑی کارروائی کو اتوار کے روز پاکستان کی طرف سے بمباری کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ دو روز قبل پاکستان نے افغانستان کی سرحد میں دراندازی کر کے فضائی حملے کیے تھے۔ اقوام متحدہ (یو این اے ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق اس پاکستانی کارروائی میں کم از کم 28 بے گناہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ طالبان کی اس تازہ کارروائی کو اس پاکستانی حملے کا براہ راست اور مناسب جواب قرار دیا جا رہا ہے۔
اس وقت پاکستان ہمیشہ کی طرح افغانستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگا رہا ہے جبکہ طالبان کا موقف ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا اپنا اندرونی مسئلہ ہے۔ اس تازہ فضائی حملے نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔