Jadid Khabar

کرناٹک ہائی کورٹ کے خلاف اٹارنی جنرل خود پہنچے سپریم کورٹ، ایتھنول معاملے پر فوری سماعت کا مطالبہ

Thumb

 
ایتھنول الاٹمنٹ معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت کے وکیل اٹارنی جنرل (اے جی) نے سپریم کورٹ سے فوری سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔ اے جی آر وینکٹ رمنی نے عدالت عظمیٰ کی تعطیلی بنچ سے کہا کہ اس معاملے پر فوری سماعت کی ضرورت ہے، بصورت دیگر اس کا اثر قومی پالیسی پر ہوگا۔ وینکٹ رمنی کے دلائل سن کر سپریم کورٹ نے بدھ کو اس معاملے پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درخواست ایک آئل ریفائنری کمپنی نے دائر کی ہے۔
درخواست میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں تیل کمپنیوں کو وی آئی این پی نامی ایتھنول کمپنی کا الاٹمنٹ بڑھانے کا حکم دیا گیا تھا۔ پچھلے ہفتے کرناٹک ہائی کورٹ نے وی آئی این پی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ تیل کمپنیوں کو وی آئی این پی سے زیادہ ایتھنول خریدنا چاہیے، یعنی اس کے الاٹمنٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی ایتھنول کی خرید کو کم کیا جا رہا ہے جبکہ وہ ایتھنول کی سپلائی کے تمام معیارات پر پوری طرح کاربند رہتی ہے۔
مرکزی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ دریں اثنا ایتھنول بیچنے والی وی آئی این پی کمپنی نے او ایم سی کو مدعا علیہ بنایا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں او ایم سی سے 9.9 کروڑ لیٹر ایتھنول خریدنے کے لیے کہا تھا۔
اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کہا کہ  آر وینکٹ رمنی نے جسٹس ایم ایم سندریش اور شیل ناگو کی بنچ سے کہا کہ اس معاملے کی فوری سماعت کی ضرورت ہے کیونکہ اس فیصلے سے ایتھنول کے حوالے سے جو قومی پالیسی ہے، وہ متاثر ہوگی۔ وینکٹ رمنی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایتھنول الاٹمنٹ کا عمل اکتوبر 2025 میں ختم ہو چکا ہے۔ اس عمل کے تحت 378 سپلائرز کو کل 1,050 کروڑ لیٹر ایتھنول کی سپلائی کے لیے الاٹمنٹ کا نوٹس دیا گیا تھا۔ ان میں سے ہمارے پاس 680 لیٹر کی سپلائی ہو بھی چکی ہے۔ وینکٹ رمنی نے عدالت میں کہا کہ اگر ایک کمپنی کے الاٹمنٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے تو دوسری کمپنیاں بھی اسی طرح کا دعویٰ کریں گی۔ اس سے جو پالیسی تیار کی گئی ہے وہ برباد ہو جائے گی۔