Jadid Khabar

سڑک کی حفاظت حکومت کی ترجیحات میں شامل، لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں متعدد اقدامات: گڈکری

Thumb

نئی دہلی، 30 جون (یو این آئی)  سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے منگل کو کہا کہ سڑک کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور محفوظ سفر کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
 
مسٹر گڈکری نے یہاں اوبر کے 'سرکشت: سیفٹی نیور اسٹاپس' پروگرام میں کہا کہ سڑک حادثات میں دنیا میں سب سے زیادہ لوگوں کی موت ہندوستان میں ہوتی ہے، جو کہ ایک بڑی تشویش کا موضوع ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اب سڑک حادثے میں زخمی ہونے والے کسی شخص کو ہسپتال پہنچانے والے کو پولیس یا کسی دوسرے قانونی جھمیلوں میں نہیں پھنسنا پڑے گا۔ زخمی کی مدد کرنے والے شخص کو مالی امداد بھی دی جائے گی۔ سڑک حادثے میں زخمی کسی شخص کو کسی بھی ہسپتال میں لائے جانے پر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کے علاج کا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت کے وقت ہی متعلقہ ڈیلر کو دو ہیلمٹ گاہک کو دینا لازمی کیا گیا ہے۔ اسی طرح کاروں میں سیٹ بیلٹ لگانا ضروری ہو گیا ہے۔ گاڑی چلانے والا موبائل فون پر بات نہ کرے، اس کے بارے میں ٹریفک قوانین سخت کیے گئے ہیں۔ سڑکوں کے گڈھے دور کرنے کی سمت میں بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سڑک پار کرتے وقت لوگوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلد بازی میں سڑک پار نہیں کرنی چاہیے۔ اس دوران موبائل فون پر بات نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کے ساتھ سڑک پار کرتے وقت اضافی چوکسی برتنی چاہیے۔
 
مرکزی وزیر نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کے معاملے میں قوانین سخت کیے گئے ہیں۔ تمام ضابطے پورے کرنے اور قوانین کے مطابق ہی لائسنس دیے جا رہے ہیں۔ اس سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے 2500 ڈرائیونگ اسکول چلائے جا رہے ہیں۔ مسٹر گڈکری نے کہا کہ سڑک کی حفاظت کے لیے قوانین پر تمام لوگ خود بخود عمل کریں، اس کے لیے ایک وسیع مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس میں عوامی نمائندوں، اداکاروں، رضاکارانہ تنظیموں، اسکولوں-کالجوں اور دیگر تنظیموں کا تعاون لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'جان ہے تو شان ہے'، 'جلدی مت مچاؤ، آرام سے آؤ' جیسے سلوگن عوام کو بیدار کرنے میں بڑے مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے سڑک کی حفاظت کے تئیں لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے سب سے خاص کر میڈیا سے تعاون کی امید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بیداری لائے جانے سے حادثات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یو این آئی ایف اے