ایمرجنسی ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا سب سے سیاہ باب : یوگی
لکھنؤ، 25 جون (یو این آئی) وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو کہا کہ سال 1975 میں لگائی گئی ایمرجنسی ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا سب سے سیاہ باب تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے اقتدار بچانے کے لیے جمہوری اداروں کو کمزور کیا، شہریوں کی آزادیوں کو سلب کیا اور آئین کی بنیادی روح کو نقصان پہنچایا۔
وزیر اعلیٰ جمعرات کو لکھنؤ میں منعقدہ 'سمودھان ہتھیا دیوس' (آئین کے قتل کا دن) پروگرام اورجمہوریت کے مجاہدین کے اعزاز کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ایمرجنسی کے دوران جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والے مجاہدین کو نوازا اور ان کی خدمات کو ملک کے لیے باعثِ تحریک بتایا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ 25 جون 1975 کو نافذ کی گئی ایمرجنسی نے ملک کے جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس دور میں سیاسی مخالفین، سماجی کارکنوں، طلبہ رہنماؤں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا اور اختلافِ رائے کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے ہم وطنوں کے بنیادی حقوق کو محدود کر دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران پریس کی آزادی پر پابندی لگائی گئی، عدلیہ کے کردار کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی اور جمہوری اداروں پر دباؤ بنایا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ آج آئین کے تحفظ کی بات کرنے والے لوگ اپنی تاریخ کے ان واقعات کو نظر انداز کرتے ہیں، جب جمہوری اقدار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد کرنے والے متعدد رہنماؤں نے جیل کا سفر کیا اور جمہوریت کی بحالی کے لیے سخت جدوجہد کی۔ یوگی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کانگریس کی مخالفت کرنے والی کئی سیاسی پارٹیوں اور رہنماؤں کی نظریہ آج بدل چکی ہے، جس کی وجہ سے نئی نسل کو تاریخ کے حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ہندوستان کو جمہوریت کی قدیم روایتوں والا ملک بتاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ہندوستانی ثقافت اور زندگی کی اقدار کا اٹوٹ حصہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت معاشرے کے آخری شخص تک ترقی اور فلاحی اسکیموں کا فائدہ پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے، جو جمہوریت کی اصل روح کو مضبوط کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے