Jadid Khabar

جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے اب تک 1118 کیسز آئے سامنے، 291 اموات کی تصدیق

Thumb

 
جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے اب تک 1118 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں 291 اموات شامل ہیں۔ یہ معلومات کانگو حکومت نے فراہم کی ہیں۔ تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق 122 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 408 مریضوں کا علاج چل رہا ہے۔ منگل تک اموات کی شرح 26 فیصد تھی۔ واضح رہے کہ ایبولا وبا کی نگرانی کا کام جاری ہے، جس کے تحت 138 مشتبہ کیسز کی شناخت ہوئی ہے، جبکہ رابطے میں آنے والے افراد کی ٹریسنگ کی شرح 77.1 فیصد رہی۔
مشرقی اتوری صوبہ اب بھی اس وبا کا مرکز بنا ہوا ہے، جبکہ جنوبی کیوو صوبہ میں 26 مئی کے بعد سے انفیکشن کا کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں آیا ہے، وہاں متاثرہ علاقوں میں نگرانی، مریضوں کی دیکھ بھال اور کانٹیکٹ ٹریسنگ جاری ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے بدھ (24 جون) کو کہا کہ متاثرہ علاقے میں بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود افریقہ میں جاری ایبولا کی وبا سے پیدا ہونے والا عالمی خطرہ کم ہے۔
اس سے قبل منگل (23 جون) کو ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ایمرجنسی الرٹ اینڈ ریسپانس آپریشنل کے ڈائریکٹر عبید الرحمٰن محمود نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’افریقہ میں ایبولا بیماری کی وبا کے پہلے مہینے میں تصدیق شدہ معاملے کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔‘‘ محمود نے کہا کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ردعمل کی سرگرمیوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران علاج کی سہولت میں اضافہ ہوا ہے، جو چند بستروں سے بڑھ کر 19 صحت کے مراکز میں 500 سے زائد بستروں تک پہنچ گئی ہے۔
عبید الرحمٰن محمود نے مزید کہا کہ لیبارٹریوں کی صلاحیت میں بھی تیزی سے توسیع کی گئی ہے۔ وبا کی شروعات میں راجدھانی کنشاسا میں روزانہ تقریباً 30 ٹیسٹ کیے جاتے تھے، لیکن اب اتوری، شمالی کیوو اور جنوبی کیوو صوبوں میں پھیلے 8 لیبارٹریوں کے نیٹورک کے ذریعے روزانہ 2000 سے زائد ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
جمہوریہ کانگو کے صدر فیلکس تشیکیدی نے منگل کے روز کہا کہ وہ جلد ہی وبا کے مرک، اتوری صوبے کا دورہ کریں گے تاکہ زمینی سطح پر جاری امدادی کاموں کا جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے یہ باتیں کنشاسا میں دورے پر آئے برونڈی کے صدر ایورسٹ ندایشیمئے کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔ پریس کانفرنس سے پہلے دونوں رہنماؤں کو وسطی افریقی ملک کی نیشنل ایبولا رسپانس ٹاسک فورس کے ساتھ ایک میٹنگ میں ڈی آر سی کی وبائی صورتحال اور اس پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ایبولا کی وبا پر قابو پانے کے لیے تشیکیدی نے روک تھام، وبائی امراض کی نگرانی اور فوری معلومات کے تبادلے پر مبنی مضبوط علاقائی تعاون پر بھی زور دیا۔