Jadid Khabar

مظفر نگر میں محرم کے جلوس کے دوران لال کپڑے سے چھپا دیا گیا شیو چوک، پولیس کی سخت سیکورٹی

Thumb

 
محرم کے مد نظر ملک کے کونے کونے میں مذہبی جلوس اور دیگر پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمند شرکت کر رہے ہیں۔ اس دوران عوامی بھیڑ کو منظم رکھنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے طرح طرح کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ مغربی اترپردیش کے مظفر نگر میں بھی منگل کی رات محرم کا جلوس برآمد ہوا تھا، جس کے لیے انتظامیہ نے سخت سیکورٹی کا انتظام کیا تھا۔ یہ جلوس شہر کے موتی محل سے نکل کر کھالاپار ہوتا ہوا شیو چوک سے گزرا۔ اس دوران یہاں پولیس انتظامیہ کی جانب سے شیو چوک پر واقع مورتی کو لال کپڑے سے چھپا دیا گیا تھا۔ اس موقع پر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بذات خود سڑک پر اتر کر بھاری پولیس فورس کے ساتھ مورچہ سنبھالے ہوئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق مظفر نگر کے اس تاریخی جلوس میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ یہ جلوس اپنے مقررہ راستوں شیو چوک سے ہوتا ہوا پر امن ماحول میں آگے بڑھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہندو عقیدت کی علامت مانے جانے والے شہر کے اس شیو چوک کو محرم کے جلوس کے دوران انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شیو چوک کو لال کپڑے سے چھپا دیا گیا اور چاروں طرف سے بیریکیڈ لگا کر اضافی فورس تعینات کی گئی تھی۔
اس سلسلے میں اے ایس پی سدھارتھ کے مشرا نے بتایا کہ یہ شہر کا مرکزی جلوس ہے، جو موتی محل سے شروع ہوتا ہے اور کھالا پار ہوتے ہوئے واپس موتی محل پہنچتا ہے۔ جلوس کے پورے راستے پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی تاکہ نظم و نسق برقرار رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلوس کے راستے میں پڑنے والے مندر کو لال کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور بیریکیڈنگ بھی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے تمام برادریوں کے مذہبی عقائد کا احترام کرتے ہوئے ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے۔ جلوس پولیس کی نگرانی میں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا اور کہیں سے کوئی کوئی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ اے ایس پی کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے پورے پروگرام کے دوران صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جارہی تھی۔