پارٹیوں کو توڑ کر اکثریت حاصل کرنا جمہوریت کے خلاف ہے: سچن پائلٹ
جے پور، 19 جون (یو این آئی) راجستھان کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو حکومت چلانے کے لیے اکثریت دی ہے، لیکن دو تہائی اکثریت نہیں دی۔ عوام کی طرف سے نہ دیے گئے مینڈیٹ کو مصنوعی طور پر تیار کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
مسٹر پائلٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ جو بل پہلے پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہو سکا تھا، اسے دوبارہ پیش کرنا دراصل ایک "مصنوعی مینڈیٹ" کے ذریعے سیاسی ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش ہے، جس کی اجازت ملک کے عوام نے کبھی نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں کو توڑ کر، ارکانِ پارلیمنٹ کو ادھر اُدھر کر کے اور مصنوعی اکثریت پیدا کر کے آئینی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے گی تو عوام اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
مسٹر پائلٹ نے کہا کہ حلقہ بندی کے لیے ایک واضح آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ پہلے مردم شماری ہونی چاہیے، اس کے بعد کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور پھر حلقہ بندی کا عمل آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مقررہ طریقۂ کار اور بنیادی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے حلقہ بندی کرنا صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہے، جو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر آئینی ہے۔
سچن پائلٹ نے کہا کہ ملک کے عوام سب کچھ دیکھ اور سمجھ رہے ہیں کہ بی جے پی اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کس نوعیت کے طریقے اختیار کر رہی ہے۔