سری نگر، 15 جون (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ (اسٹیٹ ہُڈ) واپس دلانے کے مطالبے کے سلسلے میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی کے جنتَر منتَر پر احتجاج کرنے کے نیشنل کانفرنس کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
سری نگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر دہلی میں اپنی آواز بلند کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام سے سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور دیگر عوامی فورمز پر ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ''سب سے پہلے تو اس منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہمارا مکمل ارادہ ہے کہ مانسون اجلاس کے آغاز پر ہم جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کے لیے دہلی جائیں، تاکہ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور دیگر عوامی مواقع پر جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی جا سکے اور جنتر منتر پر اپنا مطالبہ پیش کیا جا سکے۔''
یہ بیان انہوں نے اس سوال کے جواب میں دیا کہ آیا 11 جون کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد مجوزہ احتجاج کے منصوبے میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔
اس ملاقات کے دوران عمر عبداللہ نے وزیر اعظم کو اقتدار میں 12 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی تھی اور جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاستی درجہ واپس دینے کا مطالبہ بھی دہرایا تھا۔
نیشنل کانفرنس نے 4 جون کو اعلان کیا تھا کہ پارٹی کے وزراء، اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ دہلی میں احتجاج کریں گے اور جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کریں گے۔
عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے جموں و کشمیر سے متعلق متعدد امور پر گفتگو کی، جن میں ریاستی درجہ، مالی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار شامل تھی۔
انہوں نے کہاکہ ''میں نے وزیر اعظم سے مختلف معاملات پر بات کی، جن میں ریاستی درجہ، جموں و کشمیر کی مالی حالت اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے طریقے شامل تھے۔ مجھے امید ہے کہ اس گفتگو سے جموں و کشمیر کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔''