Jadid Khabar

جغرافیائی سیاسی تنازعات کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے: نرملا سیتا رمن

Thumb

نئی دہلی، 12 جون (یو این آئی)  مرکزی وزیرِ خزانہ  محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) تصادموں کے سب سے زیادہ منفی اثرات ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ پر پڑتے ہیں اور انہیں ایسے اثرات سے بچانے کے لیے مربوط عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔
محترمہ نرملا سیتا رمن یہاں سے 'گلوبل کنورجنس فار گروتھ سمٹ' کی ورچوئل میٹنگ سے خطاب کر رہی تھیں۔ جی-7 کے اجلاس سے قبل میزبان فرانس کی صدارت میں جمعرات کی شام منعقدہ اس میٹنگ میں دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے علاوہ ہندوستان، برازیل, چین، جنوبی کوریا، کینیا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نمائندوں نے شرکت کیا۔ گزشتہ روز ہونے والی اس میٹنگ میں ترقی پذیر ممالک کو متوازن ترقی کے حوالے سے اپنی رائے پیش کرنے کا موقع ملا۔
 
محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا، "حالیہ پیش رفتوں نے لچکدار، متنوع اور جغرافیائی طور پر منقسم سپلائی چینز (فراہمی کے نظام) کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی معیشت بنیادی طور پر گھریلو مانگ پر مبنی ہے اور موجودہ عالمی جیو پولیٹیکل بحران کے باوجود مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
 
عالمی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ترقی پذیر اور غریب ممالک پر پڑنے والے غیر متوازن اثرات کے بارے میں وزیرِ خزانہ نے کہا، "آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں خوشحالی اور چیلنجز مشترکہ ہیں، لیکن تصادموں اور غیر یقینی حالات کے برے نتائج ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ پر غیر متناسب طور پر زیادہ پڑتے ہیں۔ یہ صورتحال مربوط عالمی اقدام کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں مضبوط معیشتوں کی تعمیر، پائیدار ترقی کو رفتار دینے اور سب کے لیے فائدہ مند ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کثیر جہتی تعاون کو مستحکم کرنا ہوگا۔"
 
عالمی عدم توازن کے معاملے پر مرکزی وزیرِ خزانہ نے کہا، "تمام قسم کے عدم توازن ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ عدم توازن آبادی کے سائز اور ساخت میں فرق، ترقی کے مراحل، وسائل کی دستیابی یا معاشی نظام کے فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے ہماری توجہ ایسے توازن پر ہونی چاہیے جو بہت زیادہ ہیں اور مسلسل برقرار رہنے والے ہیں۔"
 
محترمہ نرملا سیتا رمن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مختلف ممالک کی گھریلو ضروریات اور ان ضروریات کے معیار میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ان (عالمی) عدم توازن کو دور کرنے کا بوجھ ان ممالک پر غیر متناسب طور پر نہیں پڑنا چاہیے جو ان کی بنیادی وجہ نہیں ہیں۔ ہندوستان، کئی دیگر ترقی پذیر معیشتوں کی طرح، عالمی عدم توازن پیدا کرنے اور اسے پھیلانے دونوں میں نسبتاً محدود کردار ادا کرتا ہے، اس کے باوجود ہمیں ان کے برے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"
 
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں حالیہ برسوں میں ہندوستان کی شاندار معاشی ترقی اور 'ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم' (اصلاح، کارکردگی اور کایا پلٹ) کے منتر کے تئیں عزم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت اپنی اندرونی مانگ سے چلتی ہے اور ملک کی کرنسی کی شرح مارکیٹ پر منحصر ہے، اور ایسی صورتحال میں ہندوستان کی شرحِ نمو بلند بنی ہوئی ہے۔
 
وزیرِ خزانہ نے کہا، "ہماری اقتصادی ترقی بنیادی طور پر گھریلو مانگ سے چلتی ہے اور ہماری شرحِ تبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کافی حد تک مارکیٹ کے ذریعے طے ہوتی ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور درمیانی مدت میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو تقریباً سات فیصد کے آس پاس مضبوط رہنے کا تخمینہ ہے۔"
 
محترمہ نرملا سیتا رمن نے کثیر جہتی اداروں میں اعتماد کو مضبوط کرنے اور یہ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کے تئیں حساس رہیں۔ انہوں نے بہتر، بڑے، زیادہ موثر اور زیادہ نمائندگی والے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی ضرورت پر زور دیا جو ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو کہیں زیادہ مالی مدد فراہم کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی مالی صلاحیت، آپریشنل کارکردگی اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو بڑھانا انتہائی اہم ہوگا۔
 
مرکزی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حالیہ واقعات نے خاص طور پر اہم معدنیات  کے لیے مضبوط، متنوع اور جغرافیائی طور پر منقسم سپلائی چینز کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ری سائیکلنگ پر مبنی معیشت اور شہری کان کنی (اربن مائننگ) پر توجہ مرکوز کر کے دنیا جن سپلائی سے متعلق چیلنجوں کا اجتماعی طور پر سامنا کر رہی ہے، ان کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
 
وزیرِ خزانہ نے کہا، "ہندوستان تمام شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر ایک زیادہ مضبوط، ہمہ جہت اور خوشحال عالمی معیشت کی تعمیر اور مشترکہ ترقی کے لیے مشترکہ حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔"