وقف بورڈ ہر مسلم مذہبی ادارے کو اپنی جائیداد نہیں مان سکتا: مدراس ہائی کورٹ
مدراس ہائی کورٹ نے وقف جائیداد کے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی مسلم مذہبی ادارے کو اس کے مذہبی کردار کی بنیاد پر وقف بورڈ اپنی جائیداد نہیں مان سکتا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایسی کسی جائیداد پر بورڈ کا اختیار تبھی ہوگا جب سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس کی رجسٹری بورڈ کے نام پر ہو چکی ہو۔ عدالت نے یہ فیصلہ چنئی کے ٹرپلیکین علاقے میں ایک درگاہ سے منسلک معاملے پر سنایا ہے۔
تمل ناڈو وقف بورڈ نے چنئی کی ایک درگاہ کو اپنی سطح پر ہی ایک قرارداد پاس کر کے وقف کے نام کر لیا تھا۔ ایسے میں متعلقہ فریق نے مدراس ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس کے جواب میں عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جس جائیداد (درگاہ) کو لے کر شکایت درج کی گئی تھی، وہ آفیشیل طور پر وقف کی جائیداد کے طور پر رجسٹر نہیں ہے۔ درگاہ کا وقف ایکٹ کے تحت سروے بھی نہیں کیا گیا تھا۔ جب کسی بھی طرح سے درگاہ کی جائیداد وقف بورڈ کے نام نہیں ہے تو صرف اپنی سطح پر ایک قرارداد پاس کر کے اس پر اپنا حق نہیں جتایا جا سکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ وقف بورڈ کو کسی بھی جائیداد پر حق جتانے کے لیے قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی درگاہ یا مسجد اپنے آپ ہی وقف کی جائیداد ہو جائے گی۔ ایسے ہر ایک معاملے میں ضروری دستاویز کی بنیاد پر یہ صاف ہونا چاہیے کہ جائیداد وقف کی ہے۔ اس سب کے لیے رجسٹریشن ہونا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ وقف جائیدادوں کے متعلق مدراس ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ وقف سے منسلک تمام جائیدادوں کے معاملے میں بھی کافی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ کسی بھی مسلم مذہبی ادارے کو وقف اپنی جائیداد نہیں مان سکتا ہے۔ اس کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔