جس نتیش کمار کے بیٹے کو لوگ انجینئر بتاتے نہیں تھکتے تھے، وہ 12ویں پاس نکلا: آر جے ڈی
بہار میں لیڈران کی تعلیم پر اکثر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ صوبے کی سیاست میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بیٹے تیج پرتاپ یادو اور تیجسوی یادو کی تعلیم کئی بار سرخیوں میں رہی۔ جبکہ اس بار سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور جے ڈی یو کے سربراہ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ انتخابی حلف نامے میں ان کی تعلیمی لیاقت کے متعلق اہم انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد آر جے ڈی نتیش کمار کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
آر جے ڈی کا کہنا ہے سالوں سے جس نشانت کمار کو انجینئر بتایا جا رہا تھا وہ حقیقت میں انجینئر نہیں ہیں اور صرف 12ویں پاس ہیں۔ آر جے ڈی کے اس دعوے کے بعد بہار کی سیاست میں لیڈران کی تعلیمی لیاقت کے متعلق ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ دراصل یہ پورا معاملہ حال ہی میں قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی پرچۂ نامزدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس کا انکشاف خود نشانت کمار کے انتخابی حلف نامے سے ہوا ہے۔ حلف نامے کے مطابق نشانت کمار صرف 12ویں پاس ہیں اور انہوں نے اپنی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل نہیں کی۔ وہ کالج ڈراپ آؤٹ ہیں۔ تکنیکی طور پر نشانت 12 ویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کیے ہوئے ہیں۔
حلف نامے کے مطابق نشانت کمار نے 1998 میں پٹنہ سائنس کالج سے 12ویں کا امتحان پاس کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے رانچی واقع برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، میسرا میں بیچلر آف انجینئرنگ میں داخلہ لیا تھا۔ حالانکہ حلف نامے میں اس بات کا ذکر ہے کہ نشانت نے انجینئرنگ کی ڈگری مکمل نہیں کی۔ دستاویز کے مطابق انہوں نے ڈگری کے لیے ضروری 8 سمسٹر میں سے صرف 5 سمسٹر ہی مکمل کیے اور 2001 میں انجینئرنگ کی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی۔ اس کے ساتھ ہی حلف نامے میں یہ بھی ذکر ہے کہ نشانت گریجویٹ نہیں ہیں۔
دوسری جانب ان معلومات کے سامنے آنے کے بعد آر جے ڈی نے نتیش کمار اور جے ڈیو کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’جس نتیش کمار کے بیٹے کو لوگ انجنیئر بتاتے نہیں تھکتے تھے، وہ 12ویں پاس نکلا۔ انتخابی حلف نامے میں خود بتایا کہ وہ گریجویٹ نہیں ہیں۔ تاعمر اقربا پروری کی مخالفت کا ناٹک کرنے والے بے ایمان لوگوں کی تمام حقیقت سامنے آئے گی۔ انتظار کیجیے۔‘‘