خوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
نئی دہلی، 5 جون (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے سلسلے میں مرکز کی مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک، گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ (1.5 کروڑ) درختوں کو کاٹ کر ماحول کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اس خطے کی خوبصورتی کو برباد کیا جا رہا ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ایک پیغام میں مسٹر گاندھی نے لکھا، "میں ہندوستان کے سب سے جنوبی سرے 'اندرا پوائنٹ' گیا۔ وہاں صدیوں پرانے درختوں کے درمیان چہل قدمی کی، مالامال سمندری زندگی اور حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) سے بھرپور مرجانی چٹانوں (کورل ریفس) کو دیکھا اور وہاں کے مقامی لوگوں سے بات چیت بھی کی۔ قبائلی برادریوں کی زمین 'جنگلات کے حقوق کے قانون' کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھینی جا رہی ہے اور ان جزائر پر بسائے گئے بہت سے سابق فوجیوں کو بھی مناسب معاوضہ نہیں مل رہا ہے"۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) عوام کو یہ بتا رہی ہے کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دفاعی ضروریات کے لیے ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر 'آئی این ایس باز' کی توسیع کی ضرورت ہے تو کانگریس حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی، لیکن بحریہ کا یہ مطالبہ گزشتہ پانچ سال سے زیرِ التوا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس پروجیکٹ کو ٹرانس شپمنٹ پورٹ کے نام پر بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ایسا بندرگاہ کیرالہ میں پہلے ہی تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس منصوبے کے تحت مرجانی چٹانوں کو سرکاری نقشوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور فوجیوں و قبائلی برادریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک کاروباری گروپ وہاں ہوٹل اور کیسینو (جوا خانے) تیار کر سکے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے عوام یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی فائدہ ان قدرتی اثاثوں کی تباہی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے جنہیں دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ماحولیاتی توازن کے ساتھ ترقی کے حامی ہیں اور نکوبار جزائر کو دنیا کے بہترین پائیدار سیاحتی مقامات کے طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا تھا کہ یہی وہ ہندوستان ہے جس کے لیے جدوجہد کی جانی چاہیے۔