آبنائے ہرمز میں ایرانی ٹول کے نظام کو قطر نے جائز ٹھہرایا ہے۔ شانگری-لا ڈائیلاگ میں بولتے ہوئے قطر کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ عارضی طور پر جو ٹول کا نظام ہے اسے غلط نہیں کہا جا سکتا ہے۔ قطر کے مطابق عارضی طور پر ٹول لینا ایران کی مجبوری ہے۔ وہاں کا انتظام چلانے میں جو پیسے خرچ ہو رہے ہیں اسے ایران کیسے وصولے گا؟ قطر کے نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میں مستقل ٹول نظام کے خلاف ہوں اور قطر ہر جگہ اس کی مخالفت کرے گا۔
’بلومبرگ‘ کے مطابق قطر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے کو لے کر بات چیت چل رہی ہے۔ قطر پردے کے پیچھے سے اس معاہدہ کی قیادت کر رہا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم الثانی معاہدہ کے لیے ایران اور امریکہ کے اہم مذاکرات کاروں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔
قطر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں زیر زمین بارودی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں، اسے ہٹانے میں کافی خرچ آئے گا۔ اگر معاہدے کے تحت 30 دن میں ایران اسے ہٹاتا ہے تو اسے کافی پیسے خرچ کرنے ہوں گے۔ یہ پیسے ایران کو کون دے گا؟ قطر کے نائب وزیر اعظم کے مطابق ایران اس کے لیے آبنائے ہرمز سے عارضی ٹول لے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ سے جنگ کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کو بلاک کر دیا۔ ہرمز خلیج فارس کا داخلی دروازہ ہے۔ 34 کلومیٹر کے اس تنگ راستے سے جہاز خلیج فارس سے نکل کر خلیج عمان میں داخل ہوتا ہے۔ اندازے کے مطابق ہرمز کے راستے پوری دنیا کی 20 فیصد تیل سپلائی کی جاتی ہے۔ ایران نے جنگ کے دوران یہاں پر ٹول بوتھ بنانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ایران نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے 10-10 لاکھ ڈالر ٹرانزٹ فیس کے طور پر وصول کیے۔ ایران نے ٹول نظام کو آگے برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ میں ایک محکمہ بھی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس محکمہ کو آئی آر جی سی کے تحت رکھا گیا ہے۔ حالانکہ امریکہ نے اس کی مخالفت کی ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ ایران قدرتی راستوں سے پیسہ نہیں وصول سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے عمان کو بھی دھمکی دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جو معاہدے کی تجویز تیار کی جا رہی ہے۔ اس میں ہرمز ٹول کا ذکر نہیں ہے۔ معاہدے کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں ٹول نہیں وصول سکتا ہے۔ اس کے بدلے ایران کے اوپر سے معاشی پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے جو ایران کو تجویز پیش کی ہے، اس میں یورینیم افزودگی کو ختم کرنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔