Jadid Khabar

ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کی درخواست پر کی: ٹرمپ

Thumb

ایئر فورس ون، 16 مئی (یو این آئی) ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ ہموار کرنے کے مقصد سے ایران کے ساتھ جنگ بندی ''پاکستان کی درخواست پر'' کی گئی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابتدا میں جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے، لیکن بین الاقوامی درخواستوں اور سفارتی دباؤ کے باعث اس پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کو واشنگٹن اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا، ''ہم نے دراصل دیگر ممالک کی درخواست پر جنگ بندی کی۔ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں نہیں تھا، لیکن پاکستان کی درخواست قبول کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بہت شاندار ہیں۔''
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس جنگ بندی کو کسی سمجھوتے کے طور پر نہیں بلکہ اپنی طاقت کے اظہار کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
چین کے کردار سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم شی جن پنگ اپنی توانائی ضروریات کے پیش نظر ایران پر دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔
ٹرمپ نے کہا، ''چین اپنی توانائی کا تقریباً 40 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے حاصل کرتا ہے، اس لیے وہ ضرور چاہے گا کہ یہ راستہ کھلا رہے۔''
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان 7 اپریل کو کیا گیا تھا، جبکہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا۔
اسی دوران امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایرانی فوجی طیارے پاکستان کے نور خان ایئربیس اور افغانستان میں اترے تھے تاکہ انہیں امریکی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے، تاہم پاکستان اور طالبان حکومت دونوں نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے بعد امریکہ میں بعض قانون سازوں نے پاکستان کے ثالثی کردار پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ لنڈسے گراہم نے کہا کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوئے تو پاکستان کے کردار کا ''مکمل ازسرنو جائزہ'' لینا ہوگا۔