Jadid Khabar

ہائی کورٹ نے دھار بھوج شالہ کو واگ دیوی مندر قرار دیا

Thumb

دھار، 15 مئی (یواین آئی) مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے دھار میں واقع بھوج شالہ کو واگ دیوی مندر قرار دے دیا ہے۔ برسوں پرانے اس تنازع میں پانچ درخواستوں اور تین مداخلتی عرضیوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ذرائع کے مطابق دو رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ 
فیصلے کے پیش نظر دھار اور اندور ضلع انتظامیہ کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ جمعہ ہونے کی وجہ سے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، کیونکہ اسی دن بھوج شالہ احاطے میں جمعہ کی نماز بھی ادا کی جاتی ہے۔ 
دھار کلکٹر راجیو رنجن مینا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن شرما نے بھوج شالہ احاطے پہنچ کر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انتظامیہ نے دونوں فریقوں سے امن و امان برقرار رکھنے اور غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ 
اسی دوران ضلع بھر سے تقریباً 1200 پولیس اہلکاروں کو دھار طلب کیا گیا ہے۔ شہر کی سکیورٹی کو کئی سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ریزرو پولیس فورس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس بھی تعینات کی گئی ہے۔ پولیس نے شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا۔ 
یہ تنازع 2022 میں اس وقت عدالت پہنچا تھا جب "ہندو فرنٹ فار جسٹس" کی جانب سے عرضی دائر کرتے ہوئے بھوج شالہ کی مذہبی حیثیت طے کرنے اور ہندو سماج کو مکمل حقوق دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی میں باقاعدہ پوجا پاٹ کا حق، احاطے میں نماز پر پابندی، ٹرسٹ کی تشکیل اور برٹش میوزیم میں رکھی ماں واگ دیوی کی مورتی واپس لانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ 
ہندوستانی آثارِ قدیمہ سروے (اے ایس آئی) نے 2024 میں بھوج شالہ احاطے کا 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا۔ اس کے بعد جنوری 2026 میں بسنت پنچمی کے موقع پر سپریم کورٹ نے پورے دن بلا رکاوٹ پوجا پاٹ کی اجازت دی تھی۔ 
ہندو فریق نے بھوج شالہ کو ماں سرسوتی کا قدیم مندر اور علم کا مرکز قرار دیتے ہوئے اے ایس آئی سروے، کتبے، تعمیراتی آثار اور عبادت کی روایت کا حوالہ دیا۔ دوسری طرف مسلم فریق نے اسے کمال مولا مسجد کا احاطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی حیثیت طے کرنے کا اختیار صرف سول عدالت کو ہے۔ 
سال 2003 سے یہاں ہر منگل اور بسنت پنچمی پر ہندو سماج کو پوجا کی اجازت جبکہ جمعہ کے دن مسلم سماج کو نماز کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔ 
یواین آئی۔ ظ ا