بیجنگ، 15 مئی (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ چین امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا۔
بیجنگ میں شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد فوکس نیوز کے پروگرام ''ہینیٹی'' میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر نے اس بات پر بہت زور دیا کہ وہ ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔
امریکی صدر کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر کسی قسم کی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی سربراہی ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
مارکو روبیو نے این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین نے آبنائے ہرمز کو عسکری رنگ دینے یا وہاں جہاز رانی پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی مخالفت کی ہے اور یہ مؤقف امریکی پالیسی کے مطابق ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے ایران کے معاملے پر چین سے کسی قسم کی مدد نہیں مانگی۔
روبیو نے کہا کہ اگرچہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکہ سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کر رہا ہے، تاہم امریکہ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ ایران کے جوہری مسئلے پر مشترکہ بنیاد تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ چین نے ایک بار پھر ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت اور جنگ کے سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔