نئی دہلی، 15 مئی (یو این آئی) کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سونے کے زیورات نہ خریدنے کے مشورے اور مرکزی حکومت کی جانب سے سونے چاندی پر امپورٹ ڈیوٹی بڑھانے کے فیصلے کو جولری کی صنعت پر حملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے 3.5 کروڑ سے زائد سناروں، کاریگروں اور چھوٹے کاروباریوں کے لیے خصوصی اقتصادی ریلیف پیکیج دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ایم پی رندیپ سنگھ سرجے والا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی کی جانب سے سونے کے زیورات نہ خریدنے کی اپیل اور حکومت کی جانب سے سونے اور چاندی پر درآمدی ڈیوٹی (امپورٹ ڈیوٹی) 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے سے جیولری کے شعبے پر شدید بحران منڈلا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے 3.5 کروڑ سے زائد سناروں، دکانداروں، تاجروں، کاریگروں اور مزدوروں کا روزگار متاثر ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سونے کے زیورات ثقافتی، سماجی اور مذہبی روایات کا اہم حصہ ہیں اور کروڑوں خواتین کے لیے معاشی تحفظ کا ذریعہ بھی ہیں۔ ملک میں 90 فیصد سے زیادہ جولری کا کاروبار ایم ایس ایم ای سیکٹر سے وابستہ ہے، جس سے کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔
مسٹر سرجے والا نے الزام لگایا کہ سونے کے زیورات نہ خریدنے کے مشورے اور امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے سے زیورات کے کاروبار پر دوہری مار پڑے گی اور اس سے اسمگلنگ بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے نوٹ بندی، ٹیکس پالیسیوں، جی ایس ٹی اور لازمی ہال مارکنگ جیسے فیصلوں سے یہ شعبہ پہلے ہی متاثر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جولری کی صنعت سے وابستہ کروڑوں محنت کشوں کے لیے فوری طور پر ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ حکومتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے بحران سے نکل سکیں۔ کانگریس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سونے پر امپورٹ ڈیوٹی بڑھانے کے بجائے مقامی سطح پر سونے کے استعمال، ری سائیکلنگ اور انکم ٹیکس قوانین میں ترمیم جیسے متبادل راستوں پر غور کیا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ سے سڑک تک اٹھائے گی۔
یواین آئی۔ایف اے